menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Qom Mein Adha Din

20 1
27.01.2026

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے، قم تہران سے ڈیڑھ گھنٹے کی مسافت پر ہے اور اسے اہل تشیع میں خصوصی اہمیت حاصل ہے، قم میں حضرت امام رضاؒ کی ہمشیرہ سیدہ معصومہؒ کا روضہ اور اہل تشیع کے قدیم مدارس ہیں، شہر کی فضا میں خاص قسم کی پاکیزگی اور روحانیت ہے۔

میں قم دوسری مرتبہ گیا، پہلی مرتبہ 2024ء میں ہم قم شہر میں داخلے سے پہلے ایک ریسٹ ایریا میں رکے تھے، اس کا نام "مہرو ماہ" تھا، وہ ایک جدید اور خوبصورت عمارت تھی جس میں شاپنگ سنٹرز، ریستوران اور کافی شاپس تھیں، اس قسم کے ریسٹ ایریاز پورے ایران میں ہیں، میرا نیشنل ہائی وے کو مشورہ ہے آپ ایران جائیں اور ریسٹ ایریاز کا ڈیزائن اور سہولتوں کا معیار ان سے لیں، ہم اس سے اپنے ریسٹ ایریاز کو مزید بہتر بنا سکتے ہیں۔

سیاح پورا دن مہروماہ میں گزار سکتے ہیں، یہ اتنا خوب صورت اور معیاری ہے، ہم بہرحال قم میں سیدہ معصومہؒ کے روضہ پر پہنچ گئے، روضے میں تقدس اور روحانیت تھی، بی بی کی قبر کو سبز پردوں سے پوشیدہ رکھا گیا ہے تاہم زائرین جالیاں پکڑ کر دعا کر سکتے ہیں اور اس وقت سینکڑوں لوگ دعائیں کر رہے تھے، روضے کے دائیں بائیں ماضی کے مختلف آیت اللہ کی قبریں تھیں، قم کے مدارس روضے کے ساتھ ہیں۔

طالب علم ظہر کے وقت کلاسز کے بعد روضے پر آ جاتے ہیں اور پھر نماز کے بعد برآمدوں میں بیٹھ کر ایک دوسرے سے اختلاف اور بحث کرتے ہیں، یہ چھوٹا سا مناظرہ ہوتا ہے لیکن اس میں ایک دوسرے کے جذبات کا خصوصی خیال رکھا جاتا ہے، ہم نے دیکھا برآمدوں میں نوجوان طالب علم ٹولیوں میں ایک دوسرے سے مناظرہ کر رہے تھے لیکن ان کی آوازیں مدہم اور لہجے مہذب تھے، میں پچھلے وزٹ پر روضہ شریف کے بعد آیت اللہ مرعشی نجفی کی لائبریری دیکھنے بھی گیا تھا، یہ قم کی سب سے بڑی اور قدیم لائبریری ہے جس میں........

© Daily Urdu