Pathar Ke Zamane Se AI Tak (8)
پتھر کے زمانے سے اے آئی تک (8)
ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے، ہماری گلی میں قیام پاکستان سے پہلے ہندو اور سکھ رہتے تھے، یہ بنیادی طور پر چار گلیاں تھیں اور چاروں ہندوئوں اور سکھوں کی ملکیت تھیں، ان کے درمیان غلہ منڈی تھی، وہ لوگ غلے کے بیوپاری ہوتے تھے، وہ ہندوستان چلے گئے تو ان کے مکان اور دکانیں ہندوستان سے پاکستان آنے والے مہاجروں کو الاٹ کر دی گئیں، یہ بے بس اور بے چارے لوگ تھے، مقامی لوگ انہیں پسند نہیں کرتے تھے اور انہیں طنزاً مہاجر کہتے تھے۔
ہماری گلی کا نام "ڈاک خانے والی گلی" تھا، اس کی وجہ شہر کا سب سے بڑا ڈاک خانہ تھا، وہ گلی کے شروع میں تھا لہٰذا گلی اس سے منسوب ہوگئی، ہمارے شناختی کارڈز اور ب فارم میں مدت تک ڈاک خانے والی گلی بطور پتا لکھی جاتی تھی، اس پوری گلی میں مقامی لوگوں کے صرف دو گھر تھے، ایک ہمارا اور دوسرا میجر برکت کا، میجر برکت فوج کے ریٹائرڈ آفیسر تھے، یہ آج کے ائیرچیف ظہیر احمد بابر سدھو کے سگے ماموں تھے، ہمارے دائیں بائیں اور آگے پیچھے مہاجر رہتے تھے جب کہ بالکل سامنے انڈیا سے ہجرت کرکے آنے والے پٹھانوں کا گھر تھا، وہ لوگ پڑھے لکھے اور کلچرڈ تھے، خاندان کے سربراہ کا نام معین خان تھا، ان کا ایک بھانجا بہت مشہور ہوا، اس کا نام سیف الرحمن تھا، وہ میاں نواز شریف کے قریب تھا، اس نے اسلام آباد اور قطر میں ریڈکو کے نام سے کمپنی بنائی اور کروڑوں روپے کمائے، وہ بعدازاں ن لیگ کے ٹکٹ پر سینیٹر اور 1997ء میں احتساب بیورو کا چیئرمین بنا اور ٹھیک ٹھاک بے عزتی کمائی، وہ لاہور میں رہتا تھا، چھٹیوں میں ماموں کے گھر آتا تھا، ہم اس کے ساتھ اور اس کے بھائی مجیب الرحمن کے ساتھ کرکٹ کھیلتے تھے۔
میری 1998ء میں اس سے اسلام آباد میں ملاقات ہوئی اور اس نے مجھ سے بچپن کی گستاخی کا ٹھیک ٹھاک حساب لینا شروع کر دیا، میں اس زمانے میں جنگ اخبار میں کالم لکھتا تھا، میاں شہباز شریف نے مجھے اس سے بچایا ورنہ وہ مجھے پورا نگل جاتا، بہرحال قصہ مختصر ہم لالہ موسیٰ آ گئے۔
والد نے غلہ منڈی میں غلے کا بیوپار شروع کر دیا، یہ کاروبار بھی چل نکلا، سکول ہمارے گھر کے بالکل سامنے تھا، مجھے اس میں داخل کرا دیا گیا، ماسٹر ظالم اور سخت تھے، ہم ننگے فرش پر بیٹھ کر پڑھتے تھے، گرمیوں میں گزارہ ہو جاتا تھا لیکن سردیاں ناقابل برداشت ہوتی تھیں، ہمارے اساتذہ نے اس کا دل چسپ حل نکالا، وہ سکول آتے ہی ہماری تشریف چھڑیوں سے سن کر دیتے تھے جس کے بعد ننگی زمین کی ٹھنڈ محسوس نہیں ہوتی تھی، مرغا بننا اور تشریف پر ڈنڈے کھانا سلیبس کا حصہ تھا بلکہ سلیبس سٹارٹ ہی اس سے ہوتا تھا، مرغے بننے کی ایکسرسائز کو "کن پھڑنا" کہا جاتا تھا، استاد وجہ یا بلاوجہ "کن پھڑ" کا حکم دیتے تھے اور طالب علم بے چارہ تشریف........
