Operation Bunyan Ul Marsoos (3)
آپریشن بنیان المرصوص (3)
ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت بھی جاننا ہوگی، 2019ء میں آپریشن سوفٹ ریٹارٹ تک پاکستان ائیرفورس کو بھارتی ائیرفورس پر سبقت حاصل تھی، انڈیا کے پاس 1970ء کے میراج 2000 طیارے تھے جب کہ پاکستان کے پاس ایف 16 طیارے تھے، پاکستان نے ایف سولہ 1983ء میں حاصل کیے تھے اور یہ میراج کے مقابلے میں جدید اور تیز ترین تھے تاہم امریکا نے ہمیں یہ طیارے مغربی سرحدوں اور دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کے لیے دیے تھے، پاکستان انہیں بھارت کے ساتھ جنگ میں استعمال نہیں کر سکتا تھا، اس ضمن میں پاکستان اور امریکا کے درمیان 2006ء میں "اینڈیوز مانیٹرنگ ایگریمنٹ" ہوا جس کے بعد بھارت ایف سولہ طیاروں کے خطرے سے آزاد ہوگیا لیکن 27 فروری 2019ء کی بے عزتی اور ونگ کمانڈر ابھی نندن کی گرفتاری کے بعد انڈیا کو پاکستانی ائیرفورس کی مہارت کا اندازہ ہوگیا اور اس نے اپنی فضائیہ کو جنگی پیمانے پر آپ گریڈ کرنے کا فیصلہ کر لیا۔
نریندر مودی نے 2015ء میں فرانس سے رافیل طیارے خریدنے کا اعلان کیا تھا، بھارت نے 2016ء میں ایگریمنٹ بھی کر لیا لیکن بھارت میں اسے ایک مہنگی اور غیر ضروری ڈیل قرار دیا جا رہا تھا، 2019ء میں پاکستان سے مار کھانے کے بعد انڈیا کو رافیل طیاروں کی اہمیت کا اندازہ ہوگیا چناں چہ اس نے دن رات ایک کرکے جولائی 2020ء میں فرانس سے پانچ رافیل طیارے منگوالیے، 2023ء میں ان طیاروں کی کل تعداد 36 ہوگئی، یہ طیارے دو ائیر بیسز پر رکھے گئے، امبالہ ائیرفورس سٹیشن، یہ ہریانہ کے قریب واقع ہے اور بھارت کا قدیم اور ہم ترین سٹیشن ہے یہاں انڈیا کا 17 سکواڈرن ہے جسے یہ گولڈن ایرو بھی کہتے ہیں۔
دوسرا سٹیشن مغربی بنگال میں بھوٹان کی سرحد پر ہاسی مارا (Hasimara) ہے، وہاں 101 سکواڈرن ہے، یہ اسے فالکنز بھی کہتے ہیں، انڈیا نے رافیل طیارے ان دونوں سٹیشنز پر اپنے ماہر ترین پائلٹس کے حوالے کر دیے اور انہوں نے ٹریننگ شروع کر دی، بھارت نے جب 2016ء میں رافیل طیاروں کی پہلی ڈیل کی تو پاکستان نے بھی اس وقت نئے طیارے خریدنے کا فیصلہ کیا لیکن ملک کے معاشی حالات نے اجازت نہیں دی اور یوں یہ عمل رک گیا لیکن 2020ء میں جب بھارت کو پہلے پانچ رافیل مل گئے تو پاکستان کو نریندر مودی کے عزائم کا اندازہ ہوگیا اور اس نے بھی ائیرفورس کو آپ گریڈ کرنے کا فیصلہ کر لیا، مجاہد انور اس وقت ائیرچیف تھے، چین سے جے 10 جہاز خریدنے کا آئیڈیا ان کا تھا۔
آپ یہاں ایک اور حقیقت بھی ملاحظہ کیجیے، بے شک چین ہمارا ہمالیہ سے بلند، سمندروں سے گہرا اور شہد سے میٹھا دوست ہے لیکن یہ اس کے باوجود خوف ناک حد تک کاروباری ملک بھی ہے، چینی اپنے معاشی مفادات پر تمام تعلقات قربان کردیتے ہیں لہٰذا چین کی کمپنیوں نے........
