Operation Bunyan Ul Marsoos (1)
آپریشن بنیان المرصوص (1)
میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء میں چلے جائیں اور میرے تین سوالوں کے جواب دیں، پہلا سوال۔ ہم چند دن بعد بھارت کو خوف ناک شکست دیں گے، ان کے آٹھ طیارے گرا دیں گے جن میں دنیا کے چار محفوظ ترین طیارے رافیل بھی شامل ہوں گے، ہم بھارت کا بجلی کا سسٹم ہیک کرکے ملک کے 70 فیصد علاقوں کی بجلی بند کر دیں گے، براہموس میزائل ہیک کرکے بھارت کے اندر گرا دیں گے، پاکستان میں بیٹھ کر انڈیا کے ڈیمز کے سپل ویز کھول دیں گے، دنیا کا محفوظ ترین دفاعی نظام ایس 400 تباہ کر دیں گے اور بھارت کو سیز فائر کی منت کرنے پر مجبور کر دیں گے، دل پر ہاتھ رکھ کر بتایے میں اگر یہ سوال 2025ء میں پوچھتا تو آپ کا کیا جواب ہوتا؟
دوسرا سوال۔ ڈونلڈ ٹرمپ جیسا متکبر اور غیرروایتی شخص پاکستان کے آرمی چیف کو وائیٹ ہائوس میں لنچ کی دعوت دے گا اور پھر پورا سال اپنی ہر تقریر میں پاکستان، فیلڈ مارشل اور وزیراعظم میاں شہباز شریف کی تعریف کرے گا اور بار بار کی اس تعریف سے بھارت اور نریندر مودی انڈین سفارت کاری کے بدترین دور میں داخل ہو جائے گا تو آپ کا کیا جواب ہوتا؟
اور تیسرا سوال۔ پاکستان سفارت کاری کے سنٹرل سٹیج پر آ جائے گا، یہ دنیا کی خوف ناک ترین جنگ (ایران امریکن وار) رکوائے گا، پوری دنیا پاکستان کو ثالث مانے گی اور پاکستان 47 سال بعد ایران اور امریکا کو اسلام آباد میں آمنے سامنے بٹھا دے گا، آپ کا اپریل 2025ء میں اس سوال کا کیا جواب ہوتا؟
آپ اب ان سوالوں میں چند مزید سوال بھی شامل کر لیجیے، مثلاً جنرل عاصم منیر پاکستان کے دوسرے فیلڈ مارشل بن جائیں گے اور پورے ملک میں کوئی شخص اس پر اعتراض نہیں کرے گا، پاکستان افغانستان پر حملہ کرکے طالبان کا پورا ڈیفنس اڑا دے گا، پاکستان دو ہفتوں میں یو اے ای کا ساڑھے تین ارب ڈالر قرضہ ادا کر دے گا، سعودی عرب اپنی حفاظت کی ذمہ داری پاکستان کے حوالے کر دے گا، ایران میں تشکر پاکستان کے نعرے لگیں گے، تمام عرب ملک پاکستان کی طرف دیکھنے پر مجبور ہو جائیں گے، پاکستان کی ایک فون کال پر نیتن یاہو کی ہٹ لسٹ سے محمد باقر قالیباف، عباس عراقچی اور صدر مسعود پزشکیان کا نام ہٹ جائے گا، پاکستان کے مشورے پر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے ایکس اکائونٹ پر ایران کے خلاف نفرت کم کر دے گا اور آبنائے ہرمز سے صرف وہ جہاز گزر سکیں گے جن پر پاکستان کا جھنڈا لگا ہوگا تو آپ کا کیا جواب ہوتا؟
ہم یقیناََ 2025ء میں بیٹھ کر یہ تصور بھی نہیں کر سکتے تھے لیکن گیارہ ماہ کے اندر اندر یہ تمام معجزے ہو گئے اور ان معجزوں سے ایک نئے پاکستان نے جنم لے لیا اور اللہ کی ذات نے ان دونوں معجزوں کا سہرا دو محسنوں کے سر........
