Mazhbi Jang (6)
اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے، عمویل مطات، یہ کراچی میں پیدا ہوا، خاندان افغانستان سے کراچی آیا اور قالین کے کاروبار سے وابستہ ہوگیا، عمویل کی تعلیم کراچی کے سکولوں اور کالجوں میں ہوئی، یہ آج بھی کراچی سٹائل میں اردو بولتا ہے، یہ لوگ جنرل ضیاء الحق کے دور میں کراچی سے تل ابیب شفٹ ہو گئے، اسرائیل میں اس وقت اس کے خاندان کے 120 لوگ آباد ہیں، میری گاہے بگاہے اس سے بات ہوتی رہتی ہے، میں نے چند ماہ قبل خیریت معلوم کرنے کے لیے اسے فون کیا، یہ بے چارہ جنگ کی وجہ سے پریشان تھا، میں نے اسے تسلی دی۔
ہماری بات چیت کے دوران میرا ایک دوست میرے پاس بیٹھا تھا، فون بند ہوا تو اس نے اعتراض کیا "تم یہودیوں سے بات کرتے ہو، تمہیں برا نہیں لگتا؟" میں نے پوچھا "مجھے برا کیوں لگے گا؟" اس کا کہنا تھا قرآن مجید میں اللہ کا ارشاد ہے یہودونصاریٰ تمہارے دوست نہیں ہو سکتے، میں نے عرض کیا "مسلمان کی حیثیت سے قرآن مجید اور رسول اللہ ﷺ کا ہر ارشاد میرے لیے فرض ہے لیکن یہاں پر چند سوال پیدا ہوتے ہیں، اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں کسی جگہ ہندوئوں کو دشمن قرار نہیں دیا مگر ہم اس کے باوجود ان سے مسلسل لڑ رہے ہیں، دوسرا ہم جب تک یہودیوں اور عیسائیوں کی کتابوں اور رسولوں پر ایمان نہ لے آئیں ہم اس وقت مسلمان نہیں ہو سکتے اگر یہ ہمارے دوست نہیں ہو سکتے تو پھر ہم ان کی کتابوں اور رسولوں پر ایمان کیوں لاتے ہیں اور تیسرا اگر صرف یہی ہمارے دشمن ہیں تو پھر ہم بھارت کے ہندوئوں سے کیوں بھڑ رہے ہیں اور شیعہ مسلمان سنی مسلمان سے کیوں لڑ رہا ہے؟"
وہ سن کر مسکرایا اور پھر بولا "تم کہنا کیا چاہتے ہو؟" میں نے عرض کیا "میں عالم نہیں ہوں، میں صرف اسلام کا ادنیٰ اور نالائق طالب علم ہوں، فیصلہ صرف علماء کرام کرسکتے ہیں، میں صرف سوال کر سکتا ہوں اور اپنے خیال کا اظہار کر سکتا ہوں، میرا خیال ہے قرآن مجید کے بعض احکامات واقعاتی ہیں، کوئی واقعہ ہوا اور اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعے مسلمانوں کی رہنمائی فرما دی اگر یہودونصاریٰ کے بارے میں فرمان حکم ہوتا تو رسول اللہ ﷺ یہودیوں کے ساتھ کوئی معاہدہ نہ کرتے اور خلفاء راشدین کے دور میں اسلامی ریاست میں کوئی عیسائی یا یہودی نہ ہوتا جب کہ حقیقت میں رسول اللہ ﷺ اور خلفاء راشدین کے دور میں عرب علاقوں میں یہودی اور عیسائی تھے اور بعد کے ادوار میں بھی یہ مختلف حکومتوں میں اعلیٰ عہدوں پر فائز رہے۔
تیسرا دوستی اور دشمنی کا کسی مذہب کے ساتھ تعلق نہیں ہوتا، یہ انفرادی فعل ہوتا ہے، دشمن آپ کا سگا بھائی بھی ہو سکتا ہے اور دوست لادین اور مخالف مذہب کا بھی، آپ افغانستان کی مثال لے لیں، افغان ہمارے مسلمان بھائی ہیں، ہم نے ان کے لیے 45 سال قربانیاں دیں، طالبان 25 سال ہمارے پاس پناہ گزین بھی رہے لیکن آج ہم رمضان میں ان پر حملے کر رہے ہیں اور یہ مسجدوں اور امام بارگاہوں میں نماز پڑھتے مسلمانوں کو شہید کر رہے ہیں۔
دوسری طرف عرب ملکوں سے ایران پر حملے ہو رہے ہیں اور........
