menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Maharaja Hari Singh Ke Jawahrat

41 0
29.10.2026

مہاراجہ ہری سنگھ کے جواہرات

یہ تین عورتوں اور ایک مرد کی حیران کن کہانی ہے، یہ کہانی ماضی کے مشہور موسیقار اور اداکار رفیق غزنوی سے شروع ہوتی ہے، وہ 1930ءکے آگے پیچھے ہندوستان میں بہت مشہور تھے، غزنوی صاحب نے 1932ء میں فلم ساز اے آر کاردار کی فلم ہیر رانجھا اور 1943ء میں فلم ساز محبوب کی بلاک بسٹر تقدیر میں اداکار بھی کی اور موسیقی بھی ترتیب دی، وہ تقسیم کے بعد پاکستان شفٹ ہوگئے اور فلموں میں بطور اداکار، گلوکار اور موسیقار کام کرتے رہے، وہ آخر میں ریڈیو پاکستان میں ملازم ہو گئے اور دو مارچ 1974ء کو کراچی میں فوت ہو گئے۔

غزنوی صاحب اس کہانی میں اہم تھے لیکن یہ کہانی ان کی نہیں تھی، ان کا کردار اس کہانی میں معمولی سا تھا، رفیق غزنوی نے ممبئی کے زمانے میں اداکارہ انوری بیگم سے شادی کی، انوری کے بطن سے ان کی بیٹی زرینہ پیدا ہوئی، رفیق غزنوی اور انوری کے درمیان زرینہ کی پیدائش کے بعد طلاق ہوگئی، انوری نے بعدازاں ہندو تاجر جگل کشور مہرہ سے شادی کر لی، مہرہ ہندوستان کی مشہور فلم ساز فیملی کپورز کا رشتے دار تھا، راج کپور والدہ کی طرف سے اس کا فرسٹ کزن تھا، اس نے اپنے زمانے کی مشہور طوائف پارو کے ساتھ بھی شادی کر رکھی تھی۔

مہرہ اور پارو نے زرینہ کو گود لے لیا، پارو کی ماں بھی طوائف تھی، اس کا نام بلو تھا، پارو کو زرینہ کے معصوم چہرے، خوب صورت آنکھوں اور چھریرے بدن میں اپنا اقتصادی مستقبل نظر آیا، اس نے اس کا نام بدل کر نسیم رکھا اور وہ اسے فلموں کی دنیا میں لے آئی، نسیم آگے چل کر پری چہرہ نسیم کہلانے لگی، نسیم نے اپنے زمانے کے مشہور ہیرو کے ایل سہگل کے ساتھ بطور ہیروئن کام کیا، پارو کی رسائی مہاراجہ کشمیر ہری سنگھ کے دربار تک تھی، نسیم (زرینہ) اور پارو دونوں مہاراجہ کے دربار میں داخل ہوئیں اور محل کے اندر تک چلی گئیں۔

1947ء میں ہندوستان تقسیم ہوگیا اور مہاراجہ کی سلطنت پاکستان اور بھارت دو حصوں میں تقسیم ہوگئی، مہاراجہ ہری سنگھ کا دربار ختم ہوگیا، پارو اور نسیم کی کیوں کہ مہاراجہ کے محل کے اندر تک رسائی تھی لہٰذا انہوں نے مہاراجہ کے 32 قیمتی ہیرے اور جواہرات چرا لیے، ان میں ریجنٹ نام کا ایک بڑا ہیرا بھی تھا، دونوں خواتین یہ جواہرات چرا کر راولپنڈی آ گئیں اور گم نام زندگی گزارنے لگیں، اس دوران نسیم کی ملاقات ایک افغان قالین فروش لیاقت گل آغا سے ہوئی، وہ افغان تھا، ایران سے قالین درآمد کرکے بیچتا تھا، بلا کا خوب صورت تھا، وہ امرتسر سے راولپنڈی آیا تھا، نسیم (زرینہ) نے لیاقت گل آغا سے........

© Daily Urdu