Isfahan Mein Do Din
کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں، پہلا راستہ ہائی وے ہے، آپ کاشان سے نکلیں اور ہائی وے کے ذریعے اصفہان پہنچ جائیں جب کہ دوسرا راستہ پہاڑی ہے، کاشان سے اصفہان تک دائیں جانب کرکاس کا پہاڑی سلسلہ ہے، نطنز کا جوہری پلانٹ اسی پہاڑی سلسلے کے درمیان آتا ہے، یہ ہائی سیکورٹی زون ہے لہٰذا گاڑیوں اور مسافروں کو اس طرف نہیں جانے دیا جاتا، ہمارے قافلے کو خصوصی اجازت حاصل تھی چناں چہ ہم کرکاس کی پہاڑیوں میں بھی جا سکتے ہیں، ہم نے اس سہولت کا فائدہ اٹھایا اور پہاڑی راستہ اختیار کرنے کا فیصلہ کیا، اس کی تین وجوہات تھیں، پہلی وجہ نطنز تھا۔
جون 2025ء میں ایران پر اسرائیلی اور امریکی حملوں کے دوران بار بار نطنز کا ذکر آیا تھا، ہم اس کے قریب سے گزر کر یہ دعویٰ کر سکتے تھے ہم نے نطنز اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے، دوسری وجہ کرکاس کی پہاڑیوں پر برف باری ہو رہی تھی اور ہم لگے ہاتھوں یہ بھی انجوائے کرنا چاہتے تھے اور تیسری وجہ آبیانہ کا گائوں تھا، مغلوں اور انگریزوں کے زمانے میں ہندوستان میں آبیانہ نام کا زرعی ٹیکس ہوتا تھا، یہ ٹیکس شروع میں صرف نہری پانی استعمال کرنے والے کسان ادا کرتے تھے لیکن پھر یہ تمام کسانوں پر لاگو ہوگیا۔
یہ ٹیکس ایران کے اس گائوں آبیانہ سے سٹارٹ ہوا تھا اور بعدازاں پوری دنیا تک پہنچ گیا، آبیانہ زرتشتی دور کا قدیم گائوں ہے جس کے لوگ آج بھی اڑھائی ہزار سال پرانے گھروں میں رہتے اور قدیم سٹائل کے کپڑے پہنتے ہیں، یہ لوگ سرخ مٹی سے گھر بناتے ہیں، روایتی کھانے کھاتے ہیں اور پرانی روایات کے مطابق زندگی گزارتے ہیں، آبیانہ کا ڈرائی فروٹ پوری دنیا میں مشہور ہے، یہ ان لوگوں کا واحد سورس آف انکم ہے۔
ہم نطنز کے قریب سے گزرے، پورا علاقہ ہائی سیکورٹی زون تھا، جگہ جگہ فوجی مورچے اور سٹیل کی فینس تھی، علاقہ ویران بھی تھا، نیوکلیئر سائیٹ کی وجہ سے وہاں آبادی نہیں تھی، ہم نطنز سے گزرے تو شدید برف باری شروع ہوگئی، آبیانہ کے قریب پہنچ کر برف باری میں اضافہ ہوگیا، علاقے میں ایک ہی ہوٹل تھا، ہم نے اسی میں لنچ کیا، ہوٹل کا مالک بلوچی تھا، اس نے دیوار پر دنیا جہاں کے کرنسی نوٹ لگائے ہوئے تھے، ہم نے ان کے درمیان پاکستانی نوٹ بھی لگا دیا، لنچ بہت اچھا اور گرم تھا، ریستوران کی کھڑکیاں وادی کی طرف کھلتی تھیں، ان سے گرتی برف کا نظارہ اچھا لگ رہا تھا۔
ہم لنچ کے بعد آبیانہ آ گئے لیکن شدید برف باری کی وجہ سے گائوں نہ دیکھ سکے، سردیوں میں گائوں میں صرف بزرگ رہ جاتے ہیں، باقی آبادی اصفہان شفٹ ہو جاتی ہے، ہم ان بزرگوں سے ملنا چاہتے تھے، گائوں کی قدیم مسجد اور پرانے گھر بھی دیکھنا چاہتے تھے، ان کے دروازوں پر بھی مردوں اور عورتوں کے لیے الگ الگ کنڈے ہوتے ہیں، ہم وہ کنڈے بجا کر دیکھنا چاہتے تھے اور ان کے لباس بہت رنگین اور کھلے ڈھلے ہوتے ہیں، ہم وہ بھی دیکھنا چاہتے تھے لیکن درمیان میں برف باری حائل ہوگئی لہٰذا ہم نے دور سے آبیانہ کو سلام کیا اور اصفہان کی طرف روانہ ہو گئے۔
اصفہان کاشان سے دو گھنٹے کی ڈرائیور پر واقع ہے، یہ شہر سلجوقیوں........
