Haikal e Sulemani
اللہ تعالیٰ کا حضرت دائودؑ پر خصوصی کرم تھا، اللہ نے انہیں پیغمبری، کتاب اور بادشاہت تینوں سے نوازہ، حضرت دائودؑ کی سلطنت نیل سے دریائے فرات تک تھی، آپؑ کے صاحب زادے حضرت سلیمانؑ کو بھی نبوت اور بادشاہت ملی تاہم وہ کتاب سے محروم رہے، حضرت سلیمانؑ نے ریاست کو مزید وسعت اور مضبوطی دی، آپؑ کی ریاست بلوچستان کے کوہ سلیمان تک وسیع تھی، حضرت سلیمانؑ اپنے تخت رواں پر کوہ سلیمان پر تشریف لائے تھے، اس مناسبت سے یہ پہاڑ کوہ سلیمان کہلاتے ہیں۔
یہودیوں کا فرسٹ ٹیمپل (ہیکل سلیمانی) حضرت سلیمانؑ نے تعمیر کرایاتھا، حضرت سلیمانؑ کا وصال 930 قبل مسیح میں ہوا جس کے فوراً بعد لڑائی شروع ہوئی اور ریاست دو حصوں میں تقسیم ہوگئی، بنی اسرائیل کے وہ دس قبیلے دوبارہ اکھٹے ہو گئے جن سے یہودیوں نے سلطنت چھینی تھی، انہوں نے ریاست کے شمالی حصوں میں اسرائیلی سلطنت (کنگڈم آف اسرائیل) بنا لی، اس کا دارالحکومت شروع میں شچم (Shechem) تھا، آج کل اس شہر کو نابلس کہا جاتا ہے اور تل ابیب کے قریب واقع ہے، دارالحکومت پھر نابلس سے دس بارہ کلومیٹر کے فاصلے پر تیراہ (پاکستان کی تیراہ ویلی کا نام اسی مناسبت سے رکھا گیا) میں شفٹ ہوا اور آخر میں سماریہ (Samaria) ہوگیا جب کہ دوسری ریاست کا نام یہودا (کنگڈم آف جودا) تھا، یہ ریاست یہودیوں اور بنیامین قبیلوں کی تھی، اس کا دارالحکومت یروشلم تھا۔
یہ دونوں ریاستیں تین چار سو سال ایک دوسرے سے لڑتی رہیں یہاں تک کہ 586 قبل مسیح میں بخت نصر آیا اور اس نے یہودا ریاست اور یروشلم تباہ کر دیا جب کہ اسرائیل کو اسیرین (Assyrian) پہلے ہی تباہ کر چکے تھے، بخت نصر یہودیوں کو بابل لے گیا اور انہیں دارالحکومت کے مضافات میں تل ابیب نامی بستی میں آباد کر دیا، یہ 50 سال وہاں رہے اور بعدازاں سائرس اول (ذوالقرنین) کے ساتھ ساز باز کی، سائرس نے بابل پر حملہ کیا اور بخت نصر کی ریاست تباہ کر دی جس کے بعد یہودی آزاد ہو گئے، ان میں سے اسی فیصد یہودی ایران اور بعدازاں سینٹرل ایشیا، روس اور مشرقی یورپ میں سیٹل ہو گئے جب کہ 20 فیصد یروشلم واپس آ گئے اور یہودیا(Judea) کے نام سے اپنی ریاست قائم کر لی، سائرس نے ان لوگوں کو سونے کے 20 ہزار سکے دیے تھے، ان لوگوں نے اس رقم سے دوبارہ ہیکل سلیمانی تعمیر کر لیا۔
یہ یہودی روایات میں سیکنڈ ٹیمپل کہلاتا ہے، یہ ٹیمپل تقریباً چھ سو سال قائم رہا یہاں تک کہ رومن بادشاہ تیتوس (Titus) نے 70 سال بعد از مسیح میں یروشلم پر حملہ کیا اور یہودیا اور سیکنڈ ٹیمپل دونوں تباہ کر دیے، ٹیمپل کی صرف مغربی دیوار بچی جسے عثمانی سلطان سلیمان علی شان نے سولہویں صدی میں یہودیوں کے حوالے کر دیا اور یہ بعدازاں دیوار گریہ یا ویسٹ وال کہلانے لگی، تیتوس کے حملے کے بعد یہودی سلطنت عملاً ختم ہوگئی اور یہودی بیت المقدس سے ہمیشہ کے لیے نکال دیے گئے، اس کے بعد ان کی واپسی 1903ء میں عثمانی خلیفہ سلطان عبدالحمید دوم کے دور میں شروع ہوئی۔
تیتوس اور سلطان عبدالحمید کے درمیان اٹھارہ سو سال کا وقفہ ہے، اس وقفے میں چند بڑے واقعات پیش آئے، مثلاً یروشلم عیسائیوں کے قبضے میں چلا گیا اور یہ کرسچین سٹیٹ بن گیا، حضرت عمر فاروقؓ کے دور میں مسلمانوں کے پاس آ گیا، حضرت امیر معاویہؓ نے اس علاقے کو فلسطین کا نام دیا، واقعہ کربلا کے بعد اموی خلیفہ عبدالملک بن مروان نے سیکنڈل ٹیمپل کی جگہ ڈوم آف دی راک یا قبۃ الصخرۃ بنا دیا اورپورے........
