menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Choti Chot Nekiyan Aur Bare Bare Mojze

16 16
18.01.2026

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور ہڈیوں کے گودے کے کینسر میں مبتلا تھا۔ ڈاکٹروں کے مطابق اس کی زندگی صرف بون میرو ٹرانسپلانٹ سے ہی بچ سکتی تھی۔ بھائی بون میرو دینے پر آمادہ ہوگیا مگر علاج کے اخراجات ایک دیوار بن گئے۔ سی ایم ایچ راولپنڈی میں ہونے والے اس حساس آپریشن پر تقریباً پچیس لاکھ روپے درکار تھے۔ اہل خیر نے بڑی حد تک تعاون کیامگر آپریشن سے صرف دو دن پہلے چھ لاکھ روپے کی کمی رہ گئی اگر یہ رقم نہ ملتی تو آپریشن مؤخر ہو جاتااور یہ تاخیر طلحہ کی جان لے سکتی تھی۔ یہاں "چھوٹی چھوٹی نیکیاں" فیصلہ کن ثابت ہوئیں۔ آغوش الخدمت یو ایس اے نے ایک دن کے اندر مطلوبہ رقم ہسپتال کے اکاؤنٹ میں منتقل کر دی جس کے بعد طلحہ زندگی کی طرف لوٹ آیا، تعلیم دوبارہ شروع کی اور ایک گھر اجڑنے سے بچ گیا۔ یہ کہانی ہمیں بتاتی ہے کہ وقت پر کی گئی نیکی معجزہ ہوتی ہے۔

یمن کے شہر زرانک کا مزدور علی ہجمانی اپنے بیٹے عبداللہ کو ڈاکٹر بنانے کا خواب دیکھ رہا تھا۔ عبداللہ صنعاء کے میڈیکل کالج میں زیر تعلیم تھا کہ خانہ جنگی شروع ہوگئی اور اس نے سب کچھ بدل کر رکھ دیا۔ علی کا روزگار ختم ہوگیا مگر اس نے ہمت نہیں ہاری۔ اس نے بیوی کے زیورات اور جمع پونجی بیچ کر عبداللہ کو پاکستان میں فیصل آباد میڈیکل کالج بھیج دیا۔ کالج نے اسے فیس میں رعایت دے دی لیکن اس کے باوجود اخراجات ناقابل برداشت تھے اور عبداللہ تعلیم چھوڑنے کے قریب پہنچ گیا۔

"چھوٹی چھوٹی نیکیاں" کے ذریعے چند دنوں میں اتنی رقم جمع ہوگئی کہ عبداللہ اپنی ڈگری مکمل کر سکتا تھا۔ آج یہ ڈاکٹر ہے اور یمن واپس جا کر اپنے جنگ زدہ ہم وطنوں کی خدمت کر رہا ہے۔ یہ کہانی ہمیں یاد دلاتی ہے تعلیم کی حفاظت قوموں کے مستقبل کی حفاظت ہوتی ہے۔ لاہور کے ایک ہوٹل میں گیس لیکج کو نظر انداز کیا گیا اور ایک خوف ناک دھماکے نے امجد علی کی زندگی بدل دی۔........

© Daily Urdu