menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Balochistan Doob Raha Hai (5)

69 0
27.09.2026

بلوچستان ڈوب رہا ہے (5)

جنرل یحییٰ خان کے دور تک بلوچستان کو صوبے کی حیثیت حاصل نہیں تھی، جنرل یحییٰ خان نے یکم جولائی 1970ء کو ایگزیکٹو آرڈر کے ذریعے ون یونٹ ختم کر دیا جس کے بعد بلوچستان بطور صوبہ متعارف ہوگیا لیکن اسے صوبے کی مکمل حیثیت 1973ء کے آئین میں ملی، 1970ء کی دہائی کے شروع میں دو سیاسی واقعات پیش آئے جنہوں نے آگے چل کر بلوچستان کی تاریخ میں اہم کردار ادا کیا۔

پہلا واقعہ الیکشن تھے، جنرل یحییٰ نے سات دسمبر 1970ء کو الیکشن کرائے تو صوبہ سرحد (کے پی) اور بلوچستان میں دو سیاسی جماعتیں ابھر کر سامنے آئیں، نیشنل عوامی پارٹی (نیپ) اور جمعیت علماء اسلام (جے یو آئی)، نیپ کمیونسٹ نظریات کی حامی تھی، اس کی بنیاد ولی خان کے والد عبدالغفار خان (باچا خان) نے رکھی تھی جب کہ جے یو آئی کے بانی مولانا فضل الرحمن کے والد مفتی محمود تھے، یہ دونوں جماعتیں نظریاتی طور پر ایک دوسرے کی مخالف تھیں، نیپ کے لیڈر کمیونسٹ تھے اور خدا کے وجود سے بھی منکر تھے جب کہ جے یو آئی پاکستان میں اسلامی نظام لانا چاہتی تھی۔

نیپ کے لیڈر اور کارکن کلین شیو جب کہ جے یو آئی باریش اور لوٹا بردار تھے لیکن آپ سیاست کی مجبوری دیکھیے، 1970ء کے الیکشنز کے بعد دونوں خون کی پیاسی جماعتوں نے سیاسی اتحاد کر لیا، یہ پاکستان کی تاریخ کا دل چسپ ترین اتحاد تھا، سرخے اور مولوی دونوں ایک میز پر بیٹھ گئے، اس اتحاد نے ذوالفقار علی بھٹو کو ہلا کر رکھ دیا، وہ شیخ مجیب الرحمن کے مقابلے میں مغربی پاکستان کے متفقہ لیڈر بننا چاہتے تھے لیکن نیپ اور جے یو آئی ان کے راستے میں رکاوٹ بن گئیں، ذوالفقار علی بھٹو کے اندر جابر جاگیر دار بیٹھا تھا چناں چہ انہوں نے آگے چل کر اس "گستاخی" کا بھرپور بدلہ لیا اور اس بدلے نے بلوچستان کو تنور بنا دیا۔

دوسرا واقعہ سانحہ مشرقی پاکستان تھا، بھارت نے شیخ مجیب کے ساتھ مل کر پاکستان توڑ دیا، پاک فوج کو شکست ہوگئی، ہمارے 90 ہزار فوجی، سویلین اور سرکاری ملازم بھارتی قید میں چلے گئے، یہ صورت حال بھارت اور سوویت یونین کے لیے آئیڈیل تھی چناں چہ دونوں نے پختونستان اور گریٹر بلوچستان کی عسکری تحریکوں کا آغاز کر دیا، عراق اس وقت سوویت یونین کا اتحادی تھا، روس نے عراق کے ذریعے پاکستان میں علیحدگی پسندوں کو اسلحہ دینا شروع کر دیا یوں صوبہ سرحد اور بلوچستان اگلا مشرقی پاکستان بننے لگا۔

نیپ اور جے یو آئی نے 1972ء میں بلوچستان اور صوبہ سرحد (کے پی) میں صوبائی حکومتیں بنا لیں، سردار اختر مینگل کے والد سردار عطاء اللہ مینگل بلوچستان کے پہلے وزیراعلیٰ اور غوث بخش بزنجو پہلے گورنر بن گئے، مینگل اور بزنجو دونوں کے قبیلے جھلاوان ہیں، ان کی وجہ سے ساراوان قبائل وفاق سے ناراض ہو گئے، ان کا خیال تھا یہ وفاق کی بلوچستان کے خلاف سازش ہے، دوسری طرف مولویوں اور سرخوں کی کوالیشن سے صوبہ سرحد (کے پی) میں مفتی محمود وزیراعلیٰ اور ارباب سکندر خان گورنر بن گئے جب کہ عبدالولی خان کو قومی اسمبلی میں اپوزیشن........

© Daily Urdu