Balochistan Doob Raha Hai (1)
بلوچستان ڈوب رہا ہے (1)
میں نے کبھی نہیں سوچا تھا بلوچستان کا فجی کے ساتھ بھی کوئی تعلق ہو سکتا ہے، مجھے جون 2016ء میں فجی جانے کا اتفاق ہوا، یہ پیسفک اوشن کا انتہائی خوب صورت ملک ہے، وہاں جا کر احساس ہوتا ہے جنت کیسی اور کتنی خوب صورت ہوگی۔ میں 29 جون کی رات فجی کے دارالحکومت سوہا میں تھا، ہوٹل کی بالکونی سے پارلیمنٹ کی عمارت دکھائی دے رہی تھی، ہوٹل کی پشت پر سمندر تھا، سمندری ہوائیں عمارتوں سے بچ بچا کر پارلیمنٹ تک آتی تھیں، عمارت سے ٹکراتی تھیں اور پلٹ کر ہوٹل کی بالکونی میں بکھر جاتی تھیں۔
میں اندھیرے میں بیٹھ کر رات کی گہرائی کو محسوس کر رہا تھا، اچانک فون کی گھنٹی بجی، کوئی صاحب ہوٹل کی ریسیپشن پر کھڑے تھے، میں پریشان ہوگیا، اجنبی شہر، ایک دن کا قیام اور کوئی رات کے وقت آپ سے ملنے آ جائے، بات پریشانی کی تھی، میں لابی میں آگیا، میرے سامنے ایک بزرگ شخص کھڑے تھے، میں ان کے ساتھ بیٹھ گیا، وہ مجھے تلاش کرتے کرتے یہاں پہنچے تھے، نام عبدالقادر تھا، وہ مجھے کوئی راز بتانا چاہتے تھے، ان کا کہنا تھا، وہ یہ راز دس سال سے سینے میں دبا کر پھر رہے ہیں لیکن انہیں کوئی مناسب پاکستانی نہیں مل رہا۔
میں نے ان سے پوچھا آپ مجھ تک کیسے پہنچے؟ ان کا کہنا تھا آپ شام کے وقت افطار ڈنر میں مدعو تھے، کسی پاکستانی ڈاکٹر نے آپ کی تصویر فیس بک پر شیئر کر دی، وہ تصویر مجھ تک پہنچی، میں نے گوگل اور فیس بک پر آپ کا پروفائل دیکھا اور آپ کی تلاش میں نکل کھڑا ہوا اور آپ سے ملاقات ہوگئی، ان کا کہنا تھا وہ تین نسلوں سے فجی کے شہری تھے، ان کا دادا 1906ء میں جالندھر سے نادی آیا، والد اس وقت چھوٹے تھے اور جالندھر میں رہتے تھے، دادا نے 1920ء میں اسے بھی نادی بلا لیا، والد نے لیٹ شادی کی، وہ پیدا ہوئے اور پیچھے سے ملک تقسیم ہوگیا، ان کا باقی ماندہ خاندان پاکستان چلا گیا، وہ آج تک کنفیوز ہیں، وہ ہندوستانی ہیں یا پاکستانی، وہ کبھی بھارت یا پاکستان نہیں گئے لیکن دل میں پاکستان کے لیے محبت محسوس کرتے ہیں اور یہ محبت انہیں کھینچ کر میرے ہوٹل تک لے آئی۔
میں پوری دل چسپی سے ان کی داستان سنتا رہا، بزرگ نے بیک گرائونڈ بتانے کے بعد وہ راز بتانا شروع کر دیا جو ہماری ملاقات کی وجہ بن رہا تھا، بزرگ نے بتایا "بھارت کے خارجہ امور کے وزیر مملکت ای احمد اکتوبر 2006ء میں فجی کے دورے پر آئے تھے، وہ کیرلہ کے رہنے والے ہیں،........
