menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Rabza Ki Rait Par Likha Hua Aik Lazawal Kirdar

16 0
22.05.2026

ربذہ کی ریت پر لکھا ہوا ایک لازوال کردار

ہمارئے اباجی کو اسلام قبول کرنے والے پانچویں صحابی رسول حضرت ابوذر غفاریؓ سے بےپناہ عقیدت تھی انہوں نے اپنی پوری زندگی ان کی ذات کی پیروی کرتے گزار دی۔ محبت کا یہ عالم تھا کہ اپنے پہلے بھتیجے کا نام "ابوذر" رکھا اور دوسرے کا نام ان کے بھائی کے نام پر "انیس" رکھا۔ اپنی پہلی بیٹی پیدا ہوئی تو اس کا نام "ربذہ" رکھا مگر لکھنے والے نے ربذہ کی بجائے" زبدہ" لکھ دیا اس لیے جب دوسری بیٹی پیدا ہوئی تو پھر اس کا نام "ربذہ" رکھا۔ میں نے ایک دفعہ اس کی وجہ پوچھی تو فرمایا کہ "ربذہ" ایسا نام ہے جو بمشکل ہی کسی دوسرے کا ہو سکتا ہے۔ اس لیے جب لوگ پوچھیں تو انہیں بتایا جاسکے کہ "ربذہ" اس ویران ریگزار کا نام ہے جہاں حضرت ابوذر غفاریؓ نے نبی کریم ﷺ کی پیشین گوئی کے مطابق اپنی زندگی کے آخری دن تنہا گزارئے۔ وہ ہر سال "یوم ابوذر" پانچ ذوالحج کو ضرور منایا کرتے تھے۔ ہم بچوں کو بہت مرتبہ حضرت ابوذر غفاریؓ کی پوری زندگی کی کہانی بڑی عقیدت سے سناتے۔ اسی نسبت سے آج صحابی رسول حضرت ابوذر غفاریؓ کے یومِ وفات 5 ذوالحج پر خراج عقیدت پیش کرنے کی سعادت میرے لیے کسی اعزاز سے کم نہیں ہے۔

آپ کا نام جندب بن جنادہ تھا۔ آپ قبیلہ غفار سے تعلق رکھتے تھے جو عرب میں سخت مزاج مگر جری لوگوں کا قبیلہ سمجھا جاتا تھا۔ اسلام کے ابتدائی ایام میں ہی جب مکہ کی فضاؤں میں توحید کی صدا بلند ہوئی تو آپؓ حق کی تلاش میں کھنچے چلے آئے۔ روایت ہے کہ آپؓ نے اسلام قبول کرنے کے فوراً بعد خانہ کعبہ میں قریش کے مجمع کے سامنے کلمۂ حق بلند کر دیا۔ اس جرات پر انہیں شدید تشدد کا سامنا کرنا پڑا مگر زبانِ حق خاموش نہ ہوئی۔ یہ وہ دور تھا جب اسلام قبول کرنا گویا اپنے آپ کو ظلم و ستم کے حوالے کر دینا تھا، مگر ابوذرؓ کی فطرت میں خوف نام کی کوئی چیز نہ تھی۔ وہ جانتے تھے کہ سچائی کا راستہ کانٹوں سے بھرا ہوتا ہے، مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ تاریخ ہمیشہ انہی قدموں کے نشان محفوظ........

© Daily Urdu