Muhabbat Se Aadat Tak
کہتے ہیں کہ ایک بوڑھی اماں ہر روز شام کو چائے کے دو کپ بناتی تھیں۔ ایک اپنا اور ایک اپنے مرحوم خاوند کے لیے اور اس کپ کو وہ اپنے مرحوم شوہر کی تصویر کے سامنے رکھ دیتیں تھیں۔ ان کے بیٹے نے ایک دن پوچھا کہ امی جان آپ ہر روز یہ کیا کرتی ہیں؟ ابو جان تو رہے نہیں تو پھر یہ چائے کیوں؟ اماں جی مسکرا کر بولیں کہ بیٹا محبت مرنے سے ختم نہیں ہو تی اور عادت بھی کبھی کہیں نہیں جاتی۔ جب تک میں ان کے حصہ کی چائے بناتی رہوں گی، مجھے لگے گا کہ وہ میرئے ساتھ ہیں۔
کچھ رشتے اس چائے کی طرح ہوتے ہیں ٹھنڈے ہوکر بھی اپنی خوشبو نہیں چھوڑتے۔ محبتیں یاد کرنے کے بہانے ڈھونڈھتی ہیں۔ عادتیں اور محبتیں کچھ لوگوں کو بھولنے نہیں دیتیں۔ کہتے ہیں کہ کچھ لمحات کے دوران کسی اپنے کی کمی اور ضرورت ہمیشہ محسوس ہوتی رہتی ہے۔ پھر جہاں انسان اپنے دل کا بوجھ کم کرنے کے لیے خود سے باتیں کرتا ہے اور اپنی تنہائی کو دور کرنے کی کوشش کرتا رہتا ہے۔
ایک اور بزرگ خاتون نے اپنے گھر کی کھونٹی پر اپنے مرحوم شوہر کا ایک کوٹ لٹکا رکھا تھا ہر ماہ جب پینشن کی رقم ملتی تو وہ اس کوٹ کی جیب میں ڈال دیتی اور جب ضرورت ہوتی اپنی ضرورت کے مطابق نکال لیتی تھی۔ کیونکہ پوری زندگی وہ اپنے گھر کے خرچہ کے لیے اپنے خاوند سے پیسے مانگتی اور لیتی رہی تھی تو آج بھی اس کی وہی عادت اور محبت ویسی ہی ہے۔ خاوند نہ سہی........
