Gilgit Shehar: Daawon Ki Taraqi Aur Awam Ki Mehroomian
گلگت شہر ایک بار پھر سردیوں کی شدت کے ساتھ اندھیرے میں ڈوبا ہوا ہے۔ بائیس گھنٹے سے زائد لوڈشیڈنگ نے معمولاتِ زندگی مفلوج کر دیے ہیں۔ گھریلو صارفین سے لے کر کاروباری طبقے تک ہر کوئی متاثر ہے۔ تعلیمی سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں، بیمار اور بزرگ شدید مشکلات سے دوچار ہیں، جبکہ چھوٹے کاروبار اپنی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ یہ صورتحال کسی ایک دن یا ایک ہفتے کی نہیں، بلکہ برسوں سے دہرایا جانے والا منظر ہے۔
حکومتیں بدلتی رہیں، ترجیحات کے دعوے بھی بدلتے رہے، مگر بنیادی مسائل جوں کے توں ہیں۔ ہر دور میں ترقیاتی منصوبوں کی فہرست پیش کی گئی، سڑکوں اور عمارتوں کے افتتاح ہوئے، مگر شہر کی گلیاں اور مرکزی شاہراہیں آج بھی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں۔ بارش اور برف باری کے بعد گڑھے مزید گہرے ہو جاتے ہیں اور شہریوں کے لیے سفر اذیت بن جاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ ترقی کے دعوؤں کا فائدہ عام آدمی تک کیوں نہیں پہنچا؟
پینے کے صاف پانی کی فراہمی بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ متعدد علاقوں میں........
