menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Iran Mein Regime Change Ki Tareekh Aur Sabaq

15 24
20.01.2026

ایران میں جاری احتجاجات کو محض وقتی عوامی ردِعمل سمجھنا ایک سادہ تجزیہ ہوگا۔ یہ مظاہرے بظاہر مہنگائی، بے روزگاری، سماجی پابندیوں اور سیاسی جمود کے خلاف ہیں، مگر ان کے پس منظر میں طاقت، اقتدار اور عالمی سیاست کے پیچیدہ دھاگے جڑے ہوئے ہیں، جو ایران کی جدید تاریخ میں بار بار سامنے آتے رہے ہیں۔ خاص طور پر جب امریکی قیادت کی جانب سے یہ بیانات آتے ہیں کہ "ہم ایران میں مظاہرین کو بچانے کے لیے جائیں گے"، تو یہ سوال ناگزیر ہو جاتا ہے کہ کیا یہ واقعی انسانی ہمدردی ہے یا ایک بار پھر رجیم چینج (Regime Change) کا پرانا نسخہ آزمایا جا رہا ہے؟

ایران کے موجودہ احتجاجات کی جڑیں کئی سطحوں پر ہیں۔ سب سے پہلی وجہ معاشی مشکلات ہیں۔ امریکی پابندیوں کے سبب ایران کی معیشت دباؤ میں ہے، مہنگائی نے عوام کی زندگیوں کو مشکل کر دیا ہے اور نوجوانوں میں بے روزگاری بڑھ گئی ہے۔ اس کے علاوہ سماجی آزادیوں کی کمی، خواتین اور نوجوانوں کے حقوق کی خلاف ورزیاں اور سیاسی عمل میں شمولیت کی محدودیت نے عوام کو ایک جذباتی اور سماجی دباؤ میں ڈال دیا ہے۔ یہی عوامل مظاہرین کو سڑکوں پر لے آئے ہیں، جہاں وہ بہتر روزگار، شفاف حکمرانی، عزت اور آزادی کے مطالبات کر رہے ہیں۔

مگر مسئلہ وہاں پیدا ہوتا ہے جہاں بیرونی طاقتیں ان احتجاجات کو اپنے سیاسی اور اقتصادی مفادات کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ حالیہ امریکی بیانات، جن میں ایران میں "مظاہرین کی حفاظت" کا ذکر کیا گیا ہے، تاریخ کی روشنی میں بہت حساس ہیں۔ ایرانی قوم کے لیے یہ بیانات کسی بھی مقامی احتجاج کو غیر ملکی مداخلت کا آلہ بنا سکتے ہیں۔ یہاں تاریخی سبق........

© Daily Urdu