menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Hashr Uthay To Sahi

26 0
08.08.2026

جنوں کو اذنِ بیانِ جنوں ملے تو سہی سوال ہم بھی اٹھائیں گے حشر اٹھے تو سہی

پاکستان میں پڑھے لکھے گھرانوں میں بھی اس مرض کو کسی جرم کی طرح چھپایا جا تا ہے، اس پر بات نہیں کی جاتی، اگر ہمارے کسی پیارے کی ذہنی حالت کسی واقعے، صدمے یا موروثیت کی وجہ سے ہمیں بہتر دکھائی نہ دے تو ہم پریشان ہو جاتے ہیں، کسی سے اس موضوع پر بات کرنے سے کتراتے ہیں۔ اب یہاں پر مریض کے گھر والوں کے اعصاب کا امتحان شروع ہو جا تا ہے۔ اس امتحان میں زیادہ تر فیل ہو جاتے ہیں اور مریض کی کیفیت کو لاعلاج سمجھ کر غریب لوگ اسے پاگل خانے اور امیر اسے اچھی خاصی ماہانہ رقم کے عوض کسی ادارے میں چھوڑ دیتے ہیں۔

مگر جن کے لیے ہم پاگل ہیں ان کے لیے کچھ تدابیر اختیار کر سکتے ہیں۔ اگر کوئی نفسیاتی پیچیدگی دیکھیں تو اس کے معمولات کا جائزہ لیں، اس کی بھوک، پیاس، نیند، بات چیت، اعضا کی حرکات، ہنسنا اور رونا نوٹس کریں، اگر وہ معمول سے زیادہ باتیں کر رہا ہے، زود رنج ہو رہا ہے، ماضی کے قصوں کو بیان کر رہا ہے، غیر محسوس طریقے سے اس کے ساتھ رہیں، اس کے غیر معمولی غصے اور باتوں کو برداشت کریں وہ لڑکی ہو یا لڑکا اسے لیکچردینے سے گریز کریں، اس کی ہاں میں ہاں ملائیں۔ یہی بہترین تھیریپی ہے۔

اس کے ہر کام کو سراہیں اسے وقتی طور پر اپنا استاد سمجھیں۔ یہ عام مریض کی تیمارداری سے ہٹ کر بڑا صبر آزما مرحلہ ہے، اپنے پیاروں کی بدلتی کیفیا ت اور مزاج کی ناہمواری میں اپنی ہمت، حوصلہ، صبر واستقامت اور ڈھیر سارا پیار شامل کریں اور اسے ایک مشن سمجھ کر اس سپاہی کی طرح جُت جائیں، جس کی مشقی ٹریننگ انتہائی سخت ہو تی ہے۔

اس دوران آپ اسے سائکاٹرسٹ کے پاس لے جانے پر یقیناً آمادہ کرلیں گے۔ پاکستان میں اچھے سائیکاٹرسٹ کم یاب ہیں وہ اُسے محض آمدنی میں بڑھاوے کا سامان سمجھتے ہیں۔ فوری ایڈمٹ کرنے کا مشورہ دیں گے یا پھر ہائی ڈوز دے کر اسے سلانے کی کوشش کریں گے۔ اگر حالت میں مزید تیزی آئے تو الیکٹرک شاکس دلوائے جاتے ہیں۔ سائکاٹرسٹ کی تجویز کردہ ہائی ڈوز کے سبب مریض کے دل کی دھڑکن بے قابو ہو جاتی ہے وہ حد سے زیادہ لاغر........

© Daily Urdu