Muslim: Karbala Ka Pehla Khoon
مسلمؑ: کربلا کا پہلا خون
وہ شہر، جس کی گلیاں کبھی علیؑ کے قدموں کی گرد سے معطر رہی تھیں، اب خوف کے سائے میں اپنی روح کھو رہا تھا۔ مسجدوں کے ستون خاموش کھڑے تھے، مگر ان کے سائے میں ضمیر بکتے جا رہے تھے۔ چند روز پہلے تک یہی کوچے "لبیک یاحسینؑ" کی صداؤں سے گونجتے تھے۔ یہی ہاتھ خط لکھ لکھ کر فرزندِ زہراؑ کو بلا رہے تھے۔ یہی لوگ مسلم بن عقیلؑ کے ہاتھ پر بیعت کرکے وفاداری کے دعوے کر رہے تھے۔
مسلمؑ، حسینؑ کے سفیر بن کر کوفہ پہنچے تھے۔
ابتدا میں یوں محسوس ہوتا تھا جیسے شہر واقعی بیدار ہوچکا ہو۔ ہزاروں لوگ ان کے گرد جمع تھے۔ ہر زبان پر یزیدیت کے خلاف نفرت تھی۔ ہر شخص خود کو آلِ محمد ﷺ کا وفادار ثابت کرنا چاہتا تھا۔ راتوں کو گھروں میں چراغ جلتے، دروازے بند ہوتے اور اندر بیٹھ کر لوگ آنے والے انقلاب کے خواب دیکھا کرتے۔
مگر پھر ابنِ زیاد کوفہ میں داخل ہوا اور اُس کے ساتھ داخل ہوا خوف۔
بازار وہی رہے، مگر چہروں کے رنگ بدل گئے۔ مسجدیں وہی رہیں، مگر سجدوں کے معنی بدل گئے۔ درہم و دینار........
