Sindoor Aur Deewar
سندھور اور دیوار کو جاننے سے پہلے ہمیں زیادہ دور نہیں جانا چاہیے، بلکہ 22 اپریل 2025 کے واقعات پر غور کرنا ہوگا، جس دن بھارت کے زیرِ قبضہ کشمیر کے علاقے بیساران ویلی میں ایک افسوس ناک واقعہ پیش آیا، جسے آج پہلگام اٹیک کے نام سے جانا جاتا ہے۔
یہ ایک انتہائی گھناؤنا واقعہ تھا، جس میں وہ لوگ جو سیاحتی مقام پر اپنے دکھ درد بھلانے کی غرض سے پہنچے تھے، اپنی زندگی کا درد لے کر واپس گئے۔ رپورٹس اور عینی شاہدین کے مطابق پہلا فائر تقریباً دوپہر 1:50 بجے کیا گیا، جبکہ کچھ کے مطابق حملہ دوپہر 1:00 بجے سے 3:00 بجے کے درمیان ہوا، جب وادی میں سیاحوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔ اس دوران انسانیت کو شرمندہ کر دینے والا ایک باب شروع ہوا۔ اندھا دھند فائرنگ سے 26 افراد جاں بحق ہوئے۔ کئی ماؤں کی اولادیں، بہنوں کے بھائی اور خاندانوں کے کفیل اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے اور ایک بار پھر انسانی جانیں سیاست کی بھینٹ چڑھ گئیں۔
بھارت نے اپنا روایتی انداز اپنایا اور واقعے کا سارا ملبہ پاکستان کے سر ڈال دیا۔ اس سازش کا مقصد صرف اور صرف مسلمانوں اور پاکستان کے نام پر اپنی سیاست کو چمکانا تھا۔ اس کے سیاسی اثرات درج ذیل ہیں:بہار اسمبلی انتخابات (نومبر 2025) مغربی بنگال اسمبلی انتخابات (مئی 2026) دہلی اسمبلی انتخابات (فروری 2025/2026) اور دیگر انتخابات میں کامیابیاں حاصل کرنا۔ اگر دیکھا جائے تو پہلگام........
