Pti Ki Siasat Aur Governor Raj
پی ٹی آئی کی سیاست اور گورنر راج
اِداروں سے ٹکراؤ لاقانونیت اور شرپسندی کا باعث بنتا ہے ایسے تجربات لیبیا، عراق اور شام میں ہوچکے، لبنان بھی اسی تجربے کی دہلیز پر ہے۔ دراصل جب بھی کوئی اسلامی ملک مضبوط دفاع اور مستحکم معیشت کے قریب آنے لگتا ہے تو بیرونی کٹھ پتلیاں حرکت میں آجاتی ہیں۔ جوہری اسلامی ملک پاکستان میں بھی شرپسندی اور لاقانونیت کے خواہاں عناصر متحرک ہو چکے ہیں۔ یہ عناصر ملکی اِداروں کی ساکھ کو داغدار کرنے کی کوشش میں ہیں۔ ایسے حالات میں جب پہلی بار دنیا پاکستان کے کردار کو تسلیم کرنے لگی ہے، فیلڈ مارشل عاصم منیر کا عالمی سطح پر چرچا ہے اور پاکستان کی ثالثی پر اقوامِ عالم کو اعتماد ہے تو ملک کے یہ حالات کچھ عناصر کو پسند نہیں شاید وہ چاہتے ہیں کہ پاکستان کی عالمی ساکھ نہ ہو اور ملک کی دفاعی اور معاشی حالت خراب ہی رہے۔
اگر کوئی کہتا ہے کہ گورنر راج غیر آئینی ہے تو وہ غلط ہے کیونکہ آئین میں اِس حوالے سے مکمل وضاحت ہے۔ پی ٹی آئی نے خود حالات سازگار بناکر حکومت کو یہ موقعہ دیا مگر اِس زیاں کا اُسے احساس نہیں۔ حکومتی تیاریوں پر بھی پی ٹی آئی ابہام کا شکار نظر آئی شاید اُسے یقین تھا کہ ایسا کوئی فیصلہ ممکن ہی نہیں حالانکہ وفاقی کابینہ کے اجلاس کی تیاریوں، وزیرِاعظم کی صدرِ مملکت سے ملاقات اور محسن نقوی جیسے کارِ خاص کی بھاگ دوڑ سے پی ٹی آئی کو سمجھ جانا چاہیے تھا تاکہ عزتِ سادات محفوظ رہتی اور صوبائی حکومت ختم نہ ہوتی لیکن ایسا سوچنے کی زحمت ہی........
