menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Naye Soobay: Zaroorat, Siasat Ya Qaumi Muslihat?

49 0
09.09.2026

نئے صوبے: ضرورت، سیاست یا قومی مصلحت؟

پاکستان کے قیام کو آٹھ عشرے مکمل ہونے میں چند ماہ رہ گئے ہیں لیکن ریاستی نظام کا بنیادی جغرافیائی ڈھانچہ آج بھی بڑی حد تک وہی ہے جو آج سے مختلف تاریخی حالات میں طے پایا تھا حالانکہ اِس دوران آبادی کئی گُنا بڑھ چکی، شہروں کا پھیلاؤ ہوا، معاشی مراکز تبدیل ہوئے، نئی لسانی اور علاقائی شناختیں مضبوط ہوئیں اور کئی علاقوں میں یہ احساس پیدا ہوا کہ بڑے صوبوں کے اندر اُن کی سیاسی، انتظامی اور معاشی ضروریات کو وہ اہمیت نہیں مل رہی جس کے وہ حقدار ہیں یہی احساس نئے صوبوں کے مطالبات کو جنم دینے کا باعث ہے۔

آج ایک مرتبہ پھر یہ سوالات اہم ہیں کہ کیا پاکستان کو مزید صوبوں کی ضرورت ہے؟ اور کیا موجودہ چار صوبے اِتنے غیر متوازن ہوچکے ہیں کہ انتظامی طور پر اُن کی تقسیم ضروری ہے یا نئے صوبوں کا قیام محدود وسائل رکھنے والے ملک کے لیے ایک نیا مالی بوجھ ثابت ہوگا؟ کیونکہ یہ سوال کسی ایک جماعت، علاقے یا زبان کے نہیں بلکہ پورے پاکستان کے مستقبل کی بات ہے۔

2023 کی مردم شماری کے مطابق پاکستان کی آبادی چوبیس کروڑ پندرہ لاکھ ہے۔ پنجاب بارہ کروڑ ستتر لاکھ آبادی کے ساتھ ملک کا سب سے بڑا صوبہ ہے جبکہ سندھ کی آبادی پانچ کروڑ ستاون لاکھ، خیبر پختونخواہ چار کروڑ نو لاکھ اور بلوچستان کی آبادی ایک کروڑ اُنچاس لاکھ ہے مگر رقبے کے اعتبار سے صورتحال اِس کے برعکس ہے۔ بلوچستان ملک کے رقبے کا چوالیس فیصد ہونے کے باوجود آبادی کا صرف چھ فیصد رکھتا ہے۔ یہ اعداد و شمار خود اِس بحث کی بنیاد فراہم کرتے ہیں کہ کیا اِتنے بڑے انتظامی یونٹس موجود دور کی ضررویات........

© Daily Urdu