menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Muzakrat Ki Aankh Micholi Aur Aman

50 0
22.08.2026

مذاکرات کی آنکھ مچولی اور امن

امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کی آنکھ مچولی پر دنیا کی نظریں ہیں کبھی سفارتی روابط کی خبریں آتی ہیں جن سے مذاکرات کی بحالی کی امید پیداہوتی ہیں اور کبھی دونوں طرف کے سخت بیانات امید پر پانی پھیر دیتے ہیں۔ مذاکرات سے واقعی پائیدار امن کے معاہدے تک پہنچا جا سکتا ہے اگر سفارتی سرگرمیوں کو محض جنگ کو کچھ عرصہ ٹالنے کی کوشش نہ سمجھا جائے۔ اب سوال یہ ہے کہ اسلام آباد میں طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کا مستقبل کیا ہوگا اور پاکستان کی سفارتی کوششیں کِس حد تک کامیاب ہوسکتی ہیں؟

اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کوابتدا میں خطے کے امن کے لیے ایک اہم اور سنجیدہ پیش رفت قرار دیاگیا کیونکہ فریقین نے فوجی کاروائیاں ختم کرنے، ایک دوسرے کی خودمختاری کا احترام کرنے اور زیادہ سے زیادہ ساٹھ روز کے اندر حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق کیا تھا اِس میں آبنائے ہُرمز میں تجارتی جہازوں کی محفوظ آمدورفت، پابندیوں میں نرمی سمیت ایران کی معاشی بحالی جیسے اہم نکات کو شامل تھے لیکن دونوں طرف سے ابھی تک وعدوں کی تکمیل نہیں کی گئی۔

پاکستان کے لیے یہ پیش رفت اِس لیے غیر معمولی اور اہم تھی کہ وہ امریکہ اور ایران کے درمیان رابطے کا ایک قابلِ اعتماد زریعہ بنا اور مذاکرات کی میزبانی اور سہولت کاری سے ثابت کیا کہ اسلام آباد خطے میں جنگ کی بجائے ایسی سفارتکاری کا آرزومند ہے جو مسائل کے حل میں مددگار ہو۔ دو ماہ قبل جون میں وسطی سوئٹزرلینڈ کے مقام برجن اسٹاک میں بھی پاکستان اور قطر کی معاونت سے امریکہ اور ایران........

© Daily Urdu