Mukalme Ki Zaroorat
امریکہ و ایران کے درمیان مزید مزاکرات ہوں گے یا نہیں؟ اور اگر ہوں گے تو کیا دونوں میں کوئی آبرو مندانہ تصفیہ ہوجائے گا؟ اِن سوالات کے جواب جاننے کے لیے دنیا بے چین ہے مگر جن دو ممالک نے مزاکرات کرنے ہیں لگتا ہے اُنھیں دنیا کی بے چینی کا کوئی احساس نہیں کیونکہ دونوں ہی ایک دوسرے کو میدان کے بعد اب اعصابی جنگ میں شکست دینے کی کوشش میں ہیں مگر یہ کوشش دنیا کی معیشت کے لیے سخت نقصان دہ ثابت ہو رہی ہے۔ جب مسائل کاحل بات چیت سے ممکن ہے کیونکہ دو فریق جب آمنے سامنے بیٹھتے ہیں تو موقف سمجھنے میں آسانی ہوتی ہے اور لچک کا امکان پیدا جاتا ہے مگر جانے کیوں یہ نکتہ سمجھ میں نہیں آرہا۔
اِس بار ایران نے رویہ اور موقف ماضی سے زیادہ سخت کر لیا ہے کیونکہ جن امور پر عمان کی ثالثی میں تصفیہ ہوگیا تھا اُن سے بھی پیچھے ہٹنے لگا ہے یہی موجودہ ڈیڈ لاک کی اہم وجہ ہے۔
امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملے یکطرفہ اور بلا جواز تھے اِس لیے حملوں کی تائید نہیں کی جا سکتی مگر جواب میں آبنائے ہُرمز جیسی عالمی گزرگاہ کو بند کردینا بدمعاشی ہے اِس بندش سے تیل کی بیس فیصد عالمی تجارت بند ہے اِس فیصلے سے صاف ظاہر ہے کہ آبنائے ہُرمز کی بندش سے حملہ آور ممالک کو نقصان پہنچانے کی بجائے ایران نے اپنے ہمسایہ اور حامی ممالک کی معیشت کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی ہے جو بدنیتی ہے۔ اِس فیصلے کا ایک نتیجہ تو یہ نکلا ہے کہ ایران سے نرمی یا تعاون کی تمام کوششیں اور منصوبے بُری طرح متاثر ہوچکے ہیں۔
متحدہ عرب امارات کا اوپیک کو خیر باد........
