menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Europi Muashron Mein Taqseem

42 0
30.09.2026

یورپی معاشروں میں تقسیم

یورپ ایسے سیاسی دورمیں داخل ہوتادکھائی دیتا ہے جہاں انتخابات صرف حکومتوں کی تبدیلی کا زریعہ نہیں بلکہ معاشروں کے اندر موجود گہری بے چینی، خوف، شناخت کے سوال اور مستقبل کے بارے میں مختلف تصورات کااظہار بھی بن چکے ہیں کہیں تارکینِ وطن مخالف جماعتیں آگے ہیں تو کہیں اُنھیں پہلے کے مقابلے میں کم عوامی حمایت مل رہی ہے یہی تضاد اِس سوال کو جنم دیتا ہے کہ کیا یورپی معاشروں میں واقعی تقسیم ہے؟

رواں ماہ ستمبر کے سویڈش انتخابات اِس حوالے سے اہم مثال ہیں جہاں ڈیموکریٹس کو 17.48 فیصد ووٹ ملے یہ گزشتہ انتخابات میں حاصل ہونے والے ووٹوں سے تین فیصد کم ہیں یہ جماعت پارلیمان میں باسٹھ نشستوں کے ساتھ اب بھی ملک کی تیسری بڑی سیاسی قوت ضرور ہے لیکن اِس کے ووٹوں میں کمی قابلِ توجہ ہے کہ گزشتہ برسوں میں اِس جماعت نے مسلسل اپنی سیاسی جگہ مضبوط کی مگر حالیہ نتائج کم ہوتی مقبولیت کی طرف اِشارہ ہیں۔

یہ نتیجہ تارکینِ وطن کے لیے کسی فوری اور قطعی تبدیلی کی ضمانت تو نہیں لیکن یہ ضرورمعلوم ہوگیاہے کہ سویڈن میں امیگریشن مخالف سیاست کو عوام کی مکمل اور بڑھتی ہوئی حمایت مزید حاصل نہیں رہی یہ انتخابی نتیجہ یورپ میں جاری اِس بحث کے دوسرے رُخ کو سامنے لاتا ہے جس میں رواداری، کثیرالثقافتی معاشرے اور تارکینِ وطن کے انضمام کو اہمیت حاصل ہے لیکن جرمنی سے آنے والی خبر اِس تصویر کو یکسر مختلف بنا دیتی ہے۔

بیس ستمبر کو میکلن برگ۔ فورپومرن کے ریاستی........

© Daily Urdu