Election Commission Ke Khilaf Ehtejaj Bharti Jamhuriat Ka Imtihan
الیکشن کمیشن کے خلاف احتجاج بھارتی جمہوریت کا امتحان
بھارت دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہونے کادعویٰ کرتا ہے اِس دعوے کی بنیاد آبادی یا انتخابات کے بڑے پیمانے پر انعقاد نہیں بلکہ ادارہ جاتی نظام رہی ہے مگر جب انتخابی عمل کی شفافیت، ووٹرفہرستوں یا الیکشن کمیشن کی غیر جانبداری پر سوال اُٹھنے لگیں تو پوری جمہوری ساخت بحث کی زد میں آجاتی ہے الیکشن کمیشن کے خلاف جاری احتجاج اسی نوعیت کی سیاسی بحث کو جنم دے رہا ہے۔
چیف الیکشن کمیشنر گیانیش کمار2025سے اِس منصب پر ہیں ستمبر2026میں سپریم کورٹ نے اُن کے طرزِ عمل اور ایس آئی آر کے خلاف دائر درخواس پر سماعت پر آمادگی ظاہرکی کیونکہ کچھ شواہدسے جانبداری ظاہرہوئی الیکشن کمیشن کے اندرسے بھی بعض امور پر اختلاف کی خبروں اور الیکشن کمیشن کے دو ممبران کی جانب سے بعض فیصلوں پر اعتراضات کی اطلاعات نے بحث کو مزید اہم بنا یا۔ ممبئی سمیت ملک بھر میں ہزاروں افراد کابھارتی الیکشن کمیشن کے خلاف احتجاج دراصل حزبِ اختلاف کی طرف سے ووٹر فہرستوں اور انتخابی عمل میں مبینہ بے ضابطگیوں کے سنگین الزامات سامنے آنے پر شروع ہواہے انتخابی فہرستوں میں موجود خامیوں اور بعض حلقوں میں ووٹروں کے ناموں سے متعلق سوالات کا احتجاجی جواب مانگ رہے ہیں مگر الیکشن کمیشن اپنے طریقہ کار اور انتخابی عمل کا دفاع کرتا ہے حالانکہ ایک جمہوری معاشرے میں اختلافِ رائے کو محض سیاسی شعور سمجھنے کی بجائے سنجیدگی سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔
انتخابات جمہوریت کی بنیاد ہیں لیکن صرف انتخابات کا انعقاد ہی جمہوریت کی ضمانت نہیں بلکہ........
