menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Pyare Qareen, Baqi Sab Khairiat Hai

26 0
14.09.2026

پیارے قارین، باقی سب خیریت ہے

مہنگائی آسمان کو چھورہی ہے، یہ محض درشنی فیشنی جملہ یا بات نہیں بلکہ ایک ایسی تلخ سچائی ہے جس پہ اہلِ اقتدار اور پالیسی ساز غور کرنے کیلئے تیار نہیں کیوں؟ اس کا سادہ جواب یہ ہے (ہمیشہ سے) کہ یہ ان کا مسئلہ نہیں آپ مہنگائی کی وجوہات گھنگالیں یا کچھ اور کریں جواب یہی ملے گا کہ ناقص نظام کمزور اقدامات منافع خوری کا جنون یہ سب ملکر مہنگائی بڑھاتے ہیں۔ حالیہ دنوں ہفتوں یا یوں کہہ لیجے امریکا ایران کشیدگی کے آغاز کے بعد تیسری دنیا کے دیگر ممالک کی طرح ہماری ہچکولے کھاتی معیشت اضافی اخراجات کا بوجھ نہیں اٹھا سکی لہٰذا سارا بوجھ عوام الناس معاف کیجے گا رعایا پر منتقل کرنے کی پالیسی اپنائی گئی۔

ابتداً پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے حوالے ریلیف دیا گیا تھا پھر وہ ختم ہوا دلچسپ بات یہ ہے کہ اس ریلیف سے پہلے اور بعد میں پٹرولیم لیوی کے نام پر صارفین کا خون ایسے نچوڑا گیا جیسے دھلے ہوئے کپڑے نچوڑ کر رسی پر ڈالے جاتے ہیں۔ بس فرق اتنا رہا کہ صارفین کو اب بھی نچوڑا جارہا ہے بذریعہ پٹرولیم مصنوعات کی روزانہ کی بنیاد پر قیمتوں کے تعین کے "بیلنے" سے گڈز اور پبلک ٹرانسپورٹ کے کرائے مسلسل بڑھ رہے ہیں روزمرہ ضرورت کی اشیا کے نرخ صبح کچھ ہوتے ہیں اور شام میں کچھ ٹماٹر کے نرخ 480 روپے سے 300 روپے کلو پر واپس آئے ہیں۔ وہ تو شکر ہے کہ جناب اسحٰق ڈار نائب وزیراعظم کے ساتھ وزیرخارجہ بھی ہیں اسی لئے عالمی مسائل کے حل کی بھاگ دوڑ کا حصہ ورنہ وہ مشورہ دیتے کہ ٹماٹر مہنگے ہیں تو دہی استعمال کیجے۔

آپ کو یاد ہوگا ماضی میں انہوں نے سبزیوں اور دالوں کی قیمتیں بڑھنے پر قومی اسمبلی میں ہوئے شور شرابے پر جواباً مشورہ دیا تھا "لوگ برائلر مرغی کھائیں وہ سستی ہے" جب انہوں نے یہ مشورہ دیا تھا تب ایک ہزار روپے میں تین برائلر مرغیاں مل جاتی تھیں آجکل ایک برائلر مرغی (زندہ) نوسوروپے سے ہزار روپے تک میں ملتی ہے۔

نصف صدی سے کچھ........

© Daily Urdu