menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Jang Bandi Ke Baad Hue Muzakrat

30 0
13.04.2026

جنگ بندی کے بعد ہوئے مذاکرات

ہم پاکستانیوں کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ہم جذباتی لوگ ہیں۔ تجزیہ کرنے پر فیصلہ صادر کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ ہمارا خیال ہے کہ جو ہم جانتے ہیں وہ کوئی نہیں جانتا جو ہم کہہ رہے ہیں سب اسے خاموشی سے سماعت فرمائیں اور یہی حرفِ آخر ہے۔ ہماری دنیا کرہ ارض کے باقی ماندہ لوگوں سے بالکل الگ تھلگ ہے۔ یہ سب چُنیدہ امت والی اُس متھ کا کیا دھرا ہے جس کی وجہ سے ہم پدرم سلطان بود کے نسلی عارضے میں مبتلا ہیں۔

حالانکہ زندہ رہنے اور آگے بڑھنے کیلئے لازم ہے کہ چار اور کے معروضی حالات پر غور کے بعد مکالمہ کیا جائے۔ تجزیہ کرتے ہوئے تجزیہ سننے کا حوصلہ بھی رکھا جائے لیکن اس کا کیا کیجے گا کہ یہاں ہر شخص استاد الاساتذہ بننے کے گنوں سے مالا مال ہے طالبعلم کے طور پر جینے بسنے کا آرزو مند نہیں۔

ایسا کیوں ہے کبھی اس پہ غوروفکر کی زحمت کیجے چودہ نہیں اٹھارہ طبق روشن ہوجائیں گے لیکن یہ ذہن میں رہے کہ یہ روشنی منزل کی سمت رہنمائی نہیں کرے گی بلکہ کوہلو کا بیل بنائے رکھے گی۔

گزشتہ شب دوستوں کی ایک نشست میں زیادہ تر دوست کج بحثی کے جنون کو مارشل لاوں کی عطا قرار دے رہے تھے۔ تب میں نے عرض کیا مذہبی اجارہ داری والے سماج میں فہمی ارتقا کی بجائے اللہ کریسی والی سوچ پنپتی ہے۔

یہ بھی عرض کیا کہ جب یہ طے کرلیا جائے کہ دنیا محض فریب ہے تو چار اور پُر فریب دھندے ہی پھلیں پھولیں گے ہمیں اس سوال پر غور کرنا ہوگا کہ "ہم جو جنت کے طلبگار ہیں دنیا کو جہنم بنائے رکھنے میں ساری توانائیاں کیوں صرف کرتے ہیں؟"

خیر چھوڑیئے میں بھی ابتدائی سطور میں کیا باتیں لے کر بیٹھ گیا۔ ہم اسلام آباد میں ہونے والے ایران امریکہ مذاکرات پر بات کرتے ہیں لیکن آگے بڑھنے سے قبل یہ عرض کردوں کہ ایران پر مسلط جنگ میں عارضی........

© Daily Urdu