Bhooki Chandri Nafsiyat
پرانی بات ہے، ایک عزیز دوست کی شادی ایک سماجی لحاظ سے چھوٹے درجے کے خاندان کی لڑکی سے ہوگئی۔ دراصل لڑکی والے سر ہوگئے تھے اور کسی طرح بہتر خاندان میں ٹانکہ لگانا چاہتے تھے۔ یہ کوئی بری بات نہیں ہے۔ انسان کو بہتر درجے میں جانے کے لیے کوشش کرنی چاہیے۔
ذکر دوست کا چل رہا ہے۔ وہ دوست ترقی کرتا کرتا بڑا افسر ہوگیا لیکن خاتون اپنے حلقے سے بلند نہ ہو پائی۔ ایک بار ایک اور دوست اُس کے ہاں اپنی بیگم کو لے گیا۔ خواتین کی ملاقات ہوئی لیکن یہ سلسلہ چل نہ سکا۔ اُس دوست نے بتایا کہ میری بیگم خاتون کے ساتھ جتنا دیر بیٹھی، وہ اُسے اپنی ماسیوں کے واقعات سناتی رہی۔ کھانے کا وقت آیا تو ڈائننگ ٹیبل پر سب لوگ آداب کے مطابق کھانا کھاتے رہے لیکن گھر کی مالکن یہ خاتون بائیں ہاتھ میں پلیٹ اٹھا کر دائیں ہاتھ سے چاول کھاتی رہی۔ عرض کرنے کا مقصد ہے کہ خاتون نے آداب نہ سیکھے اور میاں کے سماجی درجے کے مطابق خود کو نہ ڈھالا۔
یہاں کوئی یہ نہ سمجھے کہ یہ خاتون کی سادگی تھی۔ ماشاءاللہ ہر فیشن بڑھ چڑھ........
