Batil Ki Daleel Aur Sach Ke Mujrim
باطل کی دلیل اور سچ کے مجرم
پاکستان کا سب سے بڑا المیہ معاشی بدحالی، سیاسی عدم استحکام یا اداروں کی کمزوری نہیں، اصل بحران ہماری اخلاقی موت ہے۔ ہم نے حق و باطل، سچ و جھوٹ، ظلم و انصاف اور اچھے و برے کے درمیان فرق کرنا چھوڑ دیا ہے۔ اب معاملہ صرف غلط کام کرنے والوں کا نہیں، ان کے حق میں دلائل گھڑنے، ظلم کے جواز تراشنے اور ہر برائی کا دفاع کرنے والوں کا بھی ہے۔
ہمارے ہاں کسی پر ظلم ہو تو سب سے پہلے مظلوم کے کردار کا پوسٹ مارٹم شروع ہو جاتا ہے۔ ظالم سے سوال کرنے کے بجائے مظلوم کو طعنے دیے جاتے ہیں، اس کی غلطیاں گنوائی جاتی ہیں اور پھر ایسے ایسے جواز پیش کیے جاتے ہیں کہ انسان سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ آخر ہماری اخلاقی حس کہاں دفن ہو چکی ہے؟ عہدہ، نوکری، تعلق، گروہ اور ذاتی مفاد کیا ضمیر سے بھی زیادہ قیمتی ہو گئے ہیں؟ کیا اب درست اور غلط کا فیصلہ بھی اپنے مفاد کی عینک لگا کر کیا جائے گا؟
زیادہ افسوس ناک بات یہ ہے کہ یہ رویہ صرف ناخواندہ طبقے تک محدود نہیں۔ بڑے بڑے عہدوں پر بیٹھے، اعلیٰ تعلیم یافتہ اور بظاہر صاحبِ شعور لوگ بھی جب اپنے مفاد یا پسندیدہ گروہ کے معاملے میں بولتے ہیں تو ان کی ساری تعلیم، تہذیب اور دلیل دھری کی دھری رہ........
