menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

A Great Professor

15 0
13.09.2026

بابا! لوگ آپ کو پروفیسر صاحب کیوں کہہ کر پکارتے ہیں؟ آپ تو دکان دار ہیں۔

میرے چھوٹے اور اکلوتے بیٹے نے ایک بار پھر مجھ سے وہی سوال پوچھا جس کو میں نے ایک عرصے سے راز رکھا تھا، ورنہ معمول کے مطابق میں بچے کو کچھ یوں جواب دیتا: بیٹے چوں کہ میں نے ہمیشہ سے لباس، زبان، اقدار اور روایات کا خیال رکھا ہے۔ اس لیے میرے دوست از راہ مروت مجھے پروفیسر صاحب کہہ کر پکارتے ہیں۔

میرا بیٹا پہلے میرے اس سادہ جواب سے مطمئن ہوتا، مگر آج اس نے بڑی ضد کی تھی۔ ایک دو دن پہلے بچے کی ماں نے مجھ پر یہ انکشاف کیا تھا کہ بچے کو محلے والوں اور اپنے ہم جماعتوں سے آپ کے بارے میں سچ معلوم ہوگیا ہے، بہتر ہے کہ آپ خود بچے کو اس راز سے آگاہ کریں۔ ورنہ دوسرے لوگ بچے کی غلط ذہن سازی بھی کرسکتے ہیں۔ بچے کی ماں کی باتوں میں بڑا وزن تھا اور مجھے پہلی دفعہ معلوم ہوا کہ بچے کی ماں اتنی گہرائی میں بھی سوچ سکتی ہے۔ میں گہری سوچوں میں غوطہ زن تھا کہ بچے نے ایک بار پھر وہی سوال دہرایا: بابا! لوگ آپ کو پروفیسر صاحب کیوں کہہ کر پکارتے ہیں؟ آپ تو دکان دار ہیں۔ آپ جواب کیوں نہیں دیتے؟

میں نے ایک ٹھنڈی آہ بھری، صوفے پر تھوڑا سنجیدگی سے اٹھ کر بیٹھا، بچے کو زرا قریبی صوفے پر بیٹھنے کا کہا اور کہنے لگا: "بیٹے! آج میں آپ کو اپنی پروفیسری کی بابت سچی کہانی بتاؤں گا، سنتے جاؤ"۔

میں نے بڑی غربت میں ایم اے تک تعلیم حاصل کی اور پھر بڑی محنت سے پبلک سروس کمیشن کے ذریعے لکچرار بن گیا۔ میری خوشی کی انتہا نہیں تھی۔ اگرچہ میں کسی اور بڑے عہدے حاصل کرنے میں ناکام........

© Daily Urdu