menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Ejaz Rizvi, Lahoriyat Ka Akhri Waris

22 0
30.10.2026

اعجاز رضوی، لاہوریت کا آخری وارث

آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے پھیلنے سے تیس سال پہلے پاکستان آرٹیفیشل لٹریچر کے نرغے میں آنا شروع ہو چکا تھا۔ یہ ناصر کاظمی اور فیض احمد فیض کی رحلت کے بعد کے دنوں میں شروع ہوا، جب کسوٹی سے ووہٹی کی طرف چھلانگ لگانے والے لے پالک شاعروں اور اخبارات کے ادبی صفحات کے ذریعے، آدھے تیتر اور آدھے بٹیر قسم کے چاق و چوبند دستے نے ادبی صحافت اور ادبی اداروں کی سربراہی کے ذریعے بڑے ادیبوں کا روپ دھارنے اور ادب کو پیسہ بنانے والی فیکٹری سمجھ کر اس سے مال کمانے کی منصوبہ بندی کی۔ اس رویے کے خلاف پہلی آواز بلند کرنے والوں میں سب سے نمایاں میں تھا اور مجھے سب سے زیادہ ہمت اور حوصلہ عطا کرنے والوں میں علی نواز شاہ، شفیق احمد خان اور اعجاز رضوی تھے۔

اعجاز رضوی صرف ایک شخص نہیں تھا، بیک وقت ایک خاندان، پورا شہر اور ایک عہد تھا۔ دنیا اسے دوست، بھائی، شاعر اور خاکہ نگار کہتی ہے، میں اسے والدِ محترم کہتا تھا، اباجی۔ ہماری عمروں میں صرف چار چھ سال کا فرق ہوگا، لیکن اعجاز رضوی انسانی مرتبے، سماجی رکھ رکھاؤ، ظرف اور روحانی مقام میں ایسی بلندی پر فائز تھا کہ مجھے اسے اپنا بزرگ سمجھنے میں اپنی عظمت کا احساس ہوتا تھا۔

مفادات کی دوڑ اور ترجیحات کے اس دور میں اب کہیں کسی خالص انسان کا ملنا........

© Daily Urdu