menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Khud Shanasi Ka Aaina

27 0
21.08.2026

زمانہ دراز سے یہ مشاہدہ ہے کہ اقوامِ عالم کی ہلاکت و نجات کی داستانیں کبھی بیرونی حملہ آوروں سے نہیں، بلکہ داخلی فراست و بیباکی کے توازن سے رقم ہوتی ہیں۔ جب کوئی قوم اپنی صفاتِ خودی سے نابلد ہو، اپنے وسائل کے تقدیر ساز کو پہچاننے سے عاجز ہو اور عظمت کے لیے بیرونی گھر کی آس پاس جھانکنے لگے، تو پھر اُس کی رہبری یتیم ہو جاتی ہے اور ہر نئی صبح اس کے لیے حیرت و سرگردانی کا پیغام لے کر آتی ہے۔ چین و پاکستان اقتصادی راہداری کی آفتاب گیر کہانی بھی اسی روشنی میں معنی خیز ہو کر ابھرتی ہے، جہاں ظاہری شان و شوکت کے پردوں میں ایک بھیانک حقیقت چھپی ہوئی تھی، وہ حقیقت جو پاکستان کی خود فہمی کی موت کا اعلان کرتی ہے۔

اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا: "إِنَّ اللَّهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوُمٍ حَتَّىٰ يُغَيِّرُوا مَا بِأَنفُسِهِمُ" (الرعد: 11)۔ یہ آیتِ کریمہ کسی بھی قوم کی فلاح کے لیے ایک بنیادی قانونِ فطرت ہے۔ مگر افسوس! ہماری قومی پالیسی سازی کے معمار بظاہر تو اس آیت کو سینے سے لگائے ہوئے ہیں، مگر عمل میں بیرونی قوتوں کو اپنی فلاح کا واحد محور سمجھ کر اس الٰہی قانون سے پہلو تہی کر رہے ہیں۔ سندھ کے صحراؤں اور پنجاب کے میدانوں میں کوئلے پر مبنی بجلی گھروں کی تعمیر سے لے کر راشدکی اور قصور کے ادھورے صنعتی زونز تک، ہر منصوبے میں غیر معمولی سرمایہ تو خرچ ہوا، مگر زمین کی خصلت، ہواؤں کا رخ اور عوام کی معاشی نبض کا کوئی شعوری مطالعہ نہیں کیا گیا۔ نتیجتاً، وہ بجلی گھر جو قوم کی ریڑھ کی ہڈی بننے چاہیے تھے، آج مہنگائی کے طوفان میں........

© Daily Urdu