menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Jeffrey Epstein Files

12 1
05.02.2026

جیفری ایپسٹین کا نام اب کسی ایک فرد کی شناخت نہیں رہا بلکہ یہ نام جدید عالمی سیاست، طاقت، دولت، جنسی استحصال، عدالتی نظام کی کمزوری اور ذرائع ابلاغ کی اخلاقی آزمائش کی علامت بن چکا ہے۔ "ایپسٹین فائلز" کے نام سے منظرِ عام پر آنے والی دستاویزات نے ایک بار پھر یہ سوال پوری شدت سے اٹھا دیا ہے کہ کیا دنیا میں قانون واقعی سب کے لیے برابر ہے، یا پھر طاقتور طبقات کے لیے انصاف ایک قابلِ خرید شے بن چکا ہے؟ ایپسٹین کی زندگی، اس کے روابط اور اس کی پراسرار موت نے ایسے بے شمار پردے چاک کیے ہیں جن کے پیچھے عالمی اشرافیہ کے وہ چہرے چھپے تھے جو بظاہر انسانی حقوق، اخلاقیات اور جمہوری اقدار کے علمبردار سمجھے جاتے رہے ہیں۔

جیفری ایپسٹین ایک ایسا شخص تھا جو رسمی طور پر نہ کسی بڑی کارپوریشن کا سربراہ تھا اور نہ ہی کسی منتخب حکومت کا نمائندہ، مگر اس کے تعلقات دنیا کے طاقتور ترین سیاست دانوں، شہزادوں، ارب پتی سرمایہ کاروں، ماہرینِ قانون، خفیہ اداروں اور میڈیا کے نمایاں چہروں تک پھیلے ہوئے تھے۔ "ایپسٹین فائلز" نے واضح کیا کہ یہ تعلقات محض سماجی میل جول تک محدود نہیں تھے بلکہ ان کے پس منظر میں ایک منظم استحصالی نیٹ ورک کارفرما تھا، جس میں کم عمر لڑکیوں کو بااثر افراد کے لیے استعمال کیا جاتا رہا۔ انکشافات سے یہ حقیقت بھی بے نقاب ہوئی کہ........

© Daily Urdu