Imtihan Se Iqtidar Tak
ایک قدیم شہر کی روایت ہے کہ وہاں ہر سال ایک عظیم مقابلہ منعقد ہوتا تھا۔ اعلان کیا جاتا کہ جو سب سے زیادہ اہل ہوگا، وہی شہر کے سب سے باوقار منصب تک پہنچے گا۔ برسوں تک لوگ اس وعدے پر یقین کرتے رہے، یہاں تک کہ ایک دن معلوم ہوا کہ مقابلے کے سوالات پہلے ہی چند طاقتور خاندانوں کے ہاتھ لگ چکے تھے۔ ابتدا میں لوگوں نے سمجھا کہ مسئلہ صرف ایک امتحان کا ہے، مگر جلد ہی انہیں احساس ہوا کہ دراصل سوالنامہ نہیں، انصاف چوری ہوا ہے۔ اس روز شہر کے نوجوان پہلی مرتبہ محل کے دروازوں تک پہنچے اور بادشاہ نے ان کے سوالوں کا جواب دلیل سے دینے کے بجائے سپاہیوں کو آگے بڑھا دیا۔ یوں ایک تعلیمی بحران لمحوں میں سیاسی بحران میں تبدیل ہوگیا۔
جمہوریت کی تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ ریاستیں اس وقت سب سے زیادہ بے چین ہوتی ہیں جب نوجوان نسل اعتماد کھونے لگتی ہے۔ معاشی بدحالی، بے روزگاری، امتحانی بے ضابطگیاں، میرٹ کی پامالی اور مستقبل کے امکانات کا سکڑ جانا بظاہر الگ الگ مسائل دکھائی دیتے ہیں، مگر درحقیقت یہ ایک ہی زنجیر کی مختلف کڑیاں ہیں۔ جب ان میں سے کسی ایک کڑی پر شدید ضرب پڑتی ہے تو پوری زنجیر لرز اٹھتی ہے۔ بھارت میں قومی اہلیت و داخلہ امتحان کے سوالیہ پرچے کے افشا ہونے کے بعد پیدا ہونے والی صورتِ حال اسی وسیع تر بحران کی علامت ہے، جہاں احتجاج کا مرکز صرف ایک امتحان نہیں........
