menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

France: Muashi Na Hamwari Ka Bohran

22 0
19.10.2026

فرانس: معاشی ناہمواری کا بحران

کسی معاشرے کے اضطراب کو سمجھنے کے لیے ہمیشہ اس کے ایوانوں، پارلیمانوں اور اقتصادی اشاریوں کا مطالعہ کافی نہیں ہوتا کبھی کبھی شہر کی کسی مہنگی تجارتی شاہراہ پر ٹوٹا ہوا شیشے کا دروازہ، بکھرا ہوا سامان اور لوٹ مار کا منظر بھی ان تضادات کو نمایاں کر دیتا ہے جنہیں خوش نما معاشی اعداد و شمار کی دبیز تہوں میں چھپانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ فرانس سے متعلق ہنگاموں اور عالمی شہرت یافتہ لگژری برانڈز کی دکانوں میں لوٹ مار کی اطلاعات اسی وسیع تر سوال کی طرف توجہ مبذول کراتی ہیں کہ جدید ریاستیں معاشی ترقی، سماجی انصاف اور شہری اطمینان کے درمیان توازن قائم کرنے میں کہاں تک کامیاب ہوئی ہیں۔

فرانس محض یورپ کا ایک ملک نہیں، بلکہ آزادی، مساوات اور اخوت جیسے سیاسی و سماجی تصورات کی تاریخی علامت بھی ہے۔ انقلابِ فرانس نے اٹھارہویں صدی کے اواخر میں موروثی مراعات، مطلق العنان اقتدار اور طبقاتی امتیاز کے خلاف ایک ایسی فکری تحریک کو جنم دیا جس کے اثرات عالمی سیاست اور جدید جمہوری تصورات پر مرتب ہوئے۔ لیکن تاریخ کا ایک بنیادی سبق یہ بھی ہے کہ کسی انقلاب کے نعرے اگر ریاستی ڈھانچے میں مستقل سماجی انصاف کی صورت اختیار نہ کرسکیں تو ان کی معنویت وقتاً فوقتاً نئے سوالات کی زد میں آتی رہتی ہے۔ آج کے فرانس میں عوامی بے چینی کے اسباب کو بھی اسی تاریخی اور معاشرتی تناظر میں سمجھنے کی ضرورت ہے، اگرچہ کسی مخصوص احتجاج کو انقلابِ فرانس کے ساتھ براہِ راست مماثل قرار دینا علمی احتیاط کے منافی ہوگا۔

زیرِ بحث........

© Daily Urdu