Dr. Ghayas Uddin: Jadeed Dunya e Tibb Ka Gohar e Nayab
ڈاکٹر غیاث الدین: جدید دنیائے طب کا گوہر نایاب
صحت کا شعبہ کسی بھی معاشرے کی فکری پختگی، انتظامی صلاحیت اور انسانی ہمدردی کا آئینہ دار ہوتا ہے۔ جب اس شعبے سے وابستہ ممتاز شخصیات ایک ہی چھت تلے جمع ہوں، تو یہ محض ایک رسمی تقریب نہیں رہتی بلکہ اجتماعی بصیرت، پیشہ ورانہ عزم اور مستقبل کی سمت کا تعین کرنے والا ایک اہم لمحہ بن جاتی ہے۔ حالیہ تقریب بھی اسی نوعیت کی حامل تھی، جہاں معروف سرجن، ہیڈ آف سرجری اور میڈیکل سپرنٹنڈنٹ کے وی سائٹ ہسپتال ڈاکٹر غیاث الدین نے کالج آف فزیشنز اینڈ سرجنز پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے سیکرٹری ہیلتھ بلوچستان کو گلدستہ پیش کیا۔ بظاہر یہ ایک سادہ اور روایتی اظہارِ خیرسگالی تھا، مگر اس کے پس منظر میں صحت کے نظام کی بہتری، ادارہ جاتی ہم آہنگی اور پیشہ ورانہ قیادت کی ایک گہری داستان پنہاں تھی۔
اس تقریب میں ملک کے ممتاز طبی ماہرین کی موجودگی نے اس موقع کو مزید اہمیت بخشی۔ صدر سی پی ایس پی پروفیسر خالد مسعود گوندل کی شرکت اس امر کی غمازی کرتی ہے کہ ادارہ نہ صرف پیشہ ورانہ معیار کو بلند کرنے کے لیے کوشاں ہے بلکہ پالیسی سازی اور عملی اقدامات کے درمیان ایک مضبوط پل کا کردار بھی ادا کر رہا ہے۔ اسی طرح پروفیسر محمود ایاز، جنہیں پاکستان میں روبوٹک سرجری کے بانیوں میں شمار کیا جاتا ہے، کی موجودگی جدید ٹیکنالوجی کے فروغ اور سرجیکل مہارت کے ارتقاء کی علامت ہے۔ یہ وہ شخصیات ہیں جو محض تدریس یا پریکٹس تک محدود نہیں بلکہ طب کے بدلتے ہوئے تقاضوں کو سمجھتے ہوئے نئے افق تلاش کر رہی ہیں۔
ڈائریکٹر ایڈوانس اسکل ڈیپارٹمنٹ پروفیسر ابرار اشرف اور نائب صدر پروفیسر عائشہ صدیقہ کی شمولیت اس حقیقت کو مزید تقویت دیتی ہے کہ طبی تعلیم اور تربیت کا دائرہ اب روایتی حدود سے نکل کر مہارت، تحقیق اور جدت کی طرف بڑھ چکا ہے۔ ان ماہرین کی موجودگی دراصل اس عزم کی عکاسی کرتی ہے کہ پاکستان کا طبی نظام عالمی معیار کے مطابق ڈھلنے کی کوشش کر رہا ہے، جہاں محض ڈگریاں نہیں بلکہ عملی........
