Behri Iqtidar Ka Naya Ehad
بحری اقتدار کا نیا عہد
اِنَّ سُنَنَ التَّارِیخِ لَا تَجُمُدُ عَلٰی صُوَرِہَا، وَلٰکِنَّهَا تَتَجَدَّدُ فِی أَثُوَابٍ مُخُتَلِفَۃٍ۔ تاریخ کا مطالعہ اس حقیقت پر شاہد ہے کہ تمدنوں کی قسمت کا فیصلہ ہمیشہ میدانِ جنگ کے غبار میں نہیں ہوتا، بلکہ اکثر اوقات سمندروں کی خاموش لہروں، تجارتی گزرگاہوں اور جغرافیائی محلِ وقوع کی پوشیدہ معنویت میں رقم ہوتا ہے۔ اکیسویں صدی کے سیاسی افق پر ابھرتا ہوا منظرنامہ اسی ازلی قانون کی نئی تعبیر ہے۔ بحرِ اوقیانوس، جو تین صدیوں تک عالمی اقتدار، سامراجی وسعت اور سرمایہ دارانہ غلبے کی علامت رہا، اب بتدریج اپنی مرکزیت کھوتا جا رہا ہے، جبکہ بحرِ ہند اور بحرالکاہل پر مشتمل وسیع بحری خطہ عالمی سیاست، معیشت اور عسکری حکمتِ عملی کا نیا محور بنتا دکھائی دیتا ہے۔ گویا تاریخ نے اپنے جغرافیے کا قبلہ تبدیل کر دیا ہے اور اقتدار کا قافلہ ایک ساحل سے دوسرے ساحل کی طرف کوچ کر رہا ہے۔
یہ خطہ محض سمندری وسعتوں کا مجموعہ نہیں، بلکہ عالمی تجارت کی شہ رگ، توانائی کی مرکزی شاہراہ، معدنی وسائل کا عظیم مخزن اور انسانی آبادی کے سب سے بڑے ارتکاز کا امین ہے۔ افریقہ کے مشرقی ساحلوں سے لے کر بحرالکاہل کے دور افتادہ جزائر تک پھیلا ہوا یہ آبی دائرہ آج اس شطرنج کی بساط بن چکا ہے جس پر عظیم طاقتیں اپنے سیاسی وجود، معاشی مفادات اور عسکری برتری کے آخری مہرے حرکت دے رہی ہیں۔ اگر گزشتہ صدیوں کی تاریخ خشکی........
