Asr e Hazir Ka Iqtisadi Fitna Aur Janoob Asiai Shabab Ka Iblagh
عصر حاضر کا اقتصادی فتنہ اور جنوب ایشیائی شباب کا ابلاغ
تصویرِ کائنات کا یہ مسلمہ اصول ہے کہ جب کسی قوم کا نظامِ معاش و تدبیر اپنی اصل غایت سے انحراف اختیار کر لیتا ہے، تو وہاں ظاہری زیب و زینت کے پسِ پردہ تباہی کے اسباب پرورش پانے لگتے ہیں۔ قرآنِ حکیم نے اسی حقیقتِ ابدی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: «وَإِذَا أَرَدُنَا أَن نُّهُلِکَ قَرُیَةً أَمَرُنَا مُتُرَفِیهَا فَفَسَقُوا فِیهَا فَحَقَّ عَلَیُهَا الُقَوُلُ فَدَمَّرُنَاهَا تَدُمِیرًا» (اور جب ہم کسی بستی کو ہلاک کرنے کا ارادہ کرتے ہیں تو اس کے خوشحال لوگوں کو حکم دیتے ہیں، پھر وہ اس میں نافرمانی کرتے ہیں، تب اس پر بات ثابت ہو جاتی ہے اور ہم اسے تباہ کر دیتے ہیں)۔ آج خطۂ جنوب ایشیا بالخصوص بھارت، بنگلہ دیش اور پاکستان جس شدید ساختاتی بحران اور فکری تذبذب کا شکار ہے، وہ اسی الٰہی سنت اور معاشی نافرمانی کی ناطق دلیل ہے۔
بنگلہ دیش کے سیاسی افق پر شیخ حسینہ کی حکومت کا سقوط ہو یا بھارت کے طول و عرض میں بے روزگار نوجوانوں کی بپھری ہوئی تحاریک، یہ واقعات محض جزوی سیاسی بے چینی نہیں بلکہ ایک ایسے معاشی فساد کا مظہر ہیں جس نے عددی ترقی (GDP Growth) کی نمائش کو تو معراج پر پہنچا دیا، مگر انسانی سروسامانی اور توازنِ حیات کو زیر و زبر کر دیا۔ ہمارے عہد کے اربابِ حل و عقد نے ترقی کا معیار چند اعداد و شمار کے شمارِ محض کو بنا لیا ہے، حالانکہ وہ یہ بھول گئے کہ اگر یہ نمو انسانی شرف، رفاہِ عامہ اور........
