Mehboob Hamara Awat Hai
محبوب کی جب آمد ہو۔۔ تو محب کے پاوں زمین پر بھلا کب لگتے ہیں؟ خوشیاں اس کے دامن گیر ہوتی ہیں۔۔ چہرے متبسم ہوتے ہیں۔۔ رگ وپے میں مسرت و راحت کے ڈیرے ہوتے ہیں۔ "دل مضطرب" کو چین مل جاتا ہے۔۔ "غم سبھی راحت و تسکین میں" ڈھلتے ہوئے نظر آتے ہیں۔۔ گھروں کی سجاوٹ ہوتی ہے۔۔ دلوں کی سخاوت ہوتی ہے۔ اپنے تو اپنے ہوتے ہیں پرائے بھی اپنے لگنے لگتے ہیں۔۔ کبھی "اکل و شرب" کے احکامات ہوتے ہیں کبھی زبان لطافت کا اظہار کرتی ہے۔۔ انداز بیان میں جیسے کسی نے شیرینی انڈیل دی ہو۔۔ کلام میں جیسے عمدگی آگئی ہو۔ خیال میں جیسے ندرت آگئی ہو۔۔ لباس میں بھی جیسے نفاست آگئی ہو۔۔ کبھی منتظر نگاہیں محبوب کو تلاشنے کی کوشش کرتی ہیں۔۔ محبوب کے انفرادی و اجتماعی ذکر سے قلوب و اذہان کو نہ صرف تقویت ملتی ہے بلکہ وہ ایسے شاد ہوتے ہیں کہ زبان بھی نغمہ سرا بن جاتی........
