Paan Khane Ke Bahane He Chalay Aayen
پان کھانے کے بہانے ہی چلے آئیں
جس دن پاندان کا یوم صفائی ہو تو سمجھ لیں کہ صحن میں پاندان، اس کی بڑی طشتری، کلیاں وغیرہ جہیز کی طرح بکھری پڑی ہیں۔ صحن میں کرفیو کا سماں ہے۔ کسی کو قدم رکھنے کی اجازت نہیں۔ بہوئیں بچوں کو ایسے کمروں میں بند رکھتیں جیسے صحن میں کوئی بردہ فروش بیٹھی ہو۔ اللہ جانے پاندان کو مانجھنے کے لیے کہاں سے بجری لے آتیں پھر وہ رگڑائی کرتیں کہ قلعی ہی اتر جائے۔ اس کے بعد ان پر وہ پانی بہایا جاتا کہ جیسے پاندان کا غسل آخر ہو رہا ہے۔ کتھے اور چونے سے پورا صحن دو رنگی لکیریں کھینچتا چلا جاتا۔ بہوؤں کو بجری کی کچر کچر چھالیہ کی کتر کتر سے زیادہ دانتوں کو لگ رہی ہوتی۔
اب پاندان، طشتری اور کلیوں میں سے کچھ کو سجدہ ریز تو کچھ کو حالت رکوع میں رکھ دیا جاتا تاک پانی کا ایک ایک قطرہ صحن میں کسی کے پیر پڑے بنا جذب ہو جائے۔ اگر لگتا کہ کوئی بہو کمرے میں کھسر پھسر کر رہی ہے تو کہتیں: ہم بیگار نہیں ٹالتے بھیا۔ جب بچے چھوٹے تھے تب بھی گھر میں ثابت مصالحے آتے اور ہاون دستے سے کوٹتی اور سب انگلیاں چاٹتے رہ جاتے۔ یہ جو تم ہر وقت تیار نظر آتی ہو تیار مصالحے نہ ہوں تو چہرے کی ساری قلعی اتر جائے۔
پاندان کی حفاظت جان سے بڑھ کر ہوتی۔ بس عبادت کے وقت ہی یہ حفاظت ہلکی پڑ جاتی اور ایسے میں کوئی بچہ دھاوا بول دیا کرتا۔ کہنے لگیں، ایک دن میں وضو کو اٹھی اور اسلم کا چھوٹ والا پہنچا پاندان کے پاس مجھ کم بخت ماری نے بس اتنا کہہ دیا کہ، ذرا دیکھ لو کہیں........
