Faiz Festival: Habs Mein Taza Hawa Ka Jhonka
فیض فیسٹیول: حبس میں تازہ ہوا کا جھونکا
لاہور کی فضاؤں میں جب فروری کی خنکی دستک دیتی ہے تو مال روڈ پر واقع الحمرا آرٹس کونسل کے در و دیوار ایک ایسی خوشبو سے مہک اٹھتے ہیں جو محض عطر یا پھولوں کی نہیں بلکہ علم، ادب اور مزاحمت اور جہدمسلسل کی خوشبو ہوتی ہے۔ اس سال دسویں سہ روزہ "فیض فیسٹیول" میں شرکت کا موقع ملا تو یہ احساس پہلے سے کہیں زیادہ توانا ہو کر ابھرا کہ فیض احمد فیض آج اپنی جسمانی موجودگی کے بغیر بھی اتنے ہی زندہ اور متحرک ہیں جتنے وہ اپنی زندگی کے ایام میں تھے۔
اس برس فیسٹیول کا عنوان "چاند کو گل کریں تو ہم جانیں" رکھا گیا تھا۔ یہ مصرعہ محض ایک شاعرانہ تخیل نہیں بلکہ فیض صاحب کی اس فکری گہرائی کا آئینہ دار ہے جو ہر دور کے استبداد اور تاریکی کے سوداگروں کو للکارتی ہے۔ یہ عنوان موجودہ دور کے حبس زدہ سماجی و سیاسی ماحول میں ایک گہرا طنز بھی ہے اور ان لوگوں کے لیے دعوتِ فکر بھی۔ الحمرا کی راہداریوں، برنی گارڈن کی رونقوں اور ہالز میں جاری علمی نشستوں کو دیکھ کر یہ یقین پختہ ہو جاتا ہے کہ لاہور آج بھی برصغیر میں علم و ادب کا دھڑکتا ہوا دل ہے۔
کتب کے اسٹالز پر موجود نوجوانوں کا جمِ غفیر اس بات کی گواہی دے رہا تھا کہ ڈیجیٹل دور کی یلغار اور سوشل میڈیا کی سطحی معلومات کے باوجود، کاغذ اور شعور کا رشتہ ابھی ٹوٹا نہیں ہے۔ یہ فیسٹیول اب محض ایک سالانہ میلہ یا تفریحی اجتماع نہیں رہا، بلکہ یہ عالمی سطح پر پاکستان کی ان ثقافتی اقدار کا ایک مضبوط بیانیہ بن چکا ہے جو رواداری، امن اور مکالمے پر یقین........
