Na Umeedi Se Umeed Tak Ka Safar
ناامیدی سے امید تک کا سفر
زندگی میں ہم مختلف مراحل سے گزرتے ہیں اور حالات کو اپنی ناکامی کی وجہ ٹھہراتے ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ کامیاب ہونے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہمارے حالات نہیں ہوتے بلکہ ہماری اپنی سوچ ہوتی ہے۔ اسی لیے سوچ پر زیادہ کام کرنے پر زور دیا جاتا ہے۔ یہ ہمارا طرزِ عمل ہی ہوتا ہے جو ہمیں ناکام اور کامیاب بناتا ہے۔ جب ہم یہ سوچ لیتے ہیں کہ ہم نہیں کر سکتے تو کامیابی کے تمام دروازے ہم خود بند کر دیتے ہیں۔ اس کے برعکس اگر ہم یہ کہیں کہ میں سیکھ لوں گا اور کر لوں گا تو یہی سوچ ہماری تقدیر کا رُخ موڑ دیتی ہے۔ کامیابی اور ناکامی کے درمیان میں صرف ایک سوچ اور ایک جملے کا فاصلہ ہوتا ہے۔
کام کوئی بھی ہو، پہل کرنا یا پہلی دفعہ کرنا مشکل ہوتا ہے۔ اسی لیے عموماً لوگ خود کو کسی کشمکش میں نہیں ڈالتے اور نہ ہی کسی قسم کاخطرہ مول لینے کو تیار ہوتے ہیں۔ بس سیدھا انکار کر دیتے ہیں کہ یہ میرے بس کی بات نہیں ہے یا یہ کام میں نہیں کر سکتا یا سکتی ہوں کیوں کہ میں نے پہلے کبھی یہ کیا ہی نہیں ہے۔ پہلے کبھی نہیں کیا، تو کیا آپ ساری زندگی وہ کام کریں گے ہی نہیں؟
اب اس کا یہ ہرگز مطلب نہیں ہے کہ اس کام کے کرنے کی صلاحیتیں اُس شخص میں موجود نہیں ہیں یا وہ اس قابل نہیں ہے کہ وہ اس کام کو سرانجام دے سکے بلکہ اس کے پیچھے ان کی فرسودہ سوچ ہوتی ہے جو ان کو یہ باور کرواتی ہے کہ میں نہیں کر سکتا۔ دراصل وہ ناکامی سے ڈرتے ہیں، اپنے آرام دہ ماحول اور ایک معمول سے ہٹ کر کچھ نہیں کرنا چاہتے، ان کے اندر اعتماد کی کمی ہوتی ہے، انھیں اپنی صلاحیتوں پر مکمل بھروسہ نہیں ہوتا، سب سے بڑھ کر یہ کہ وہ سیکھنا ہی نہیں چاہتے۔
اگر کوئی........
