menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Qatil Se Muhabbat

25 0
26.08.2026

اس وقت پوری دنیا پر جس تہذیب کا غلبہ ہے، وہ مغرب کی پروردہ تہذیب ہے۔ اس تہذیب نے انسانی زندگی کے تقریباً ہر گوشے کو اپنے اثر میں لے لیا ہے۔ ہمارے رہن سہن سے لے کر ہماری سوچ، ہماری خواہشات سے لے کر ہماری ترجیحات، ہمارے لباس سے لے کر ہمارے خوابوں تک، بہت کچھ ایسا ہے جسے ہم نے اس تہذیب کے آئینے میں دیکھنا شروع کر دیا ہے۔ اس تہذیب کا ایک بڑا عنوان جدیدیت ہے۔ جدیدیت بظاہر ترقی، آزادی، عقل، روشن خیالی اور انسانی فلاح کے دلکش نعروں کے ساتھ ہمارے سامنے آتی ہے، مگر اس کے باطن میں ایک ایسا تصورِ زندگی کارفرما ہے جو دین، ایمان، دینی زندگی اور دینی احوال کو انسانی زندگی کے مرکزی مقام سے ہٹا دینے پر مصر ہے۔ مسئلہ یہ نہیں کہ دنیا نے سائنس میں ترقی کیوں کی، انسان نے نئی ایجادات کیوں کیں یا زندگی کو آسان بنانے کے لیے نئے ذرائع کیوں پیدا کیے۔ مسئلہ وہاں پیدا ہوتا ہے جہاں مادی ترقی کو زندگی کا آخری مقصد سمجھ لیا جائے اور وحی، اخلاق، آخرت اور خدا سے تعلق کو انسانی ترقی کی راہ میں رکاوٹ تصور کیا جانے لگے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں جدیدیت محض ایک فکری رجحان نہیں رہتی بلکہ ایک ایسی طاقت بن جاتی ہے جو انسان کے تصورِ حیات کو اندر سے تبدیل کرنے لگتی ہے۔

مگر اس سارے معاملے کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ جس طرزِ فکرنے ہمارے ایمان، ہماری روحانی شناخت اور ہماری دینی زندگی کو کمزور کیا، وہی ہمارے سامنے نجات دہندہ بن کر کھڑا ہے۔ اس نے ہمیں یہ باور کرایا کہ تمہاری پسماندگی کی وجہ تمہارا دین ہے، تمہاری کمزوری کی وجہ تمہاری دینی وابستگی ہے، تمہاری محرومی کی وجہ تمہاری روایات ہیں اور تمہاری ترقی کا راستہ یہ ہے کہ تم اپنے ماضی، اپنی تہذیبی شناخت اور اپنے ایمانی تصورات سے فاصلہ پیدا کرو۔ عجیب بات یہ ہے کہ ہم نے اس مقدمے کو........

© Daily Urdu