menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Aik Tareehi Kirdar: Suqrat

18 0
25.05.2026

ایک تاریخی کردار: سقراط

تاریخ کا اصل حسن اس کے کرداروں میں ہے۔ وہ لوگ جو اپنے دور میں نہ سمجھے گئے، نہ سراہے گئے، بعض تو سولی پر چڑھائے گئے، زہر کا پیالہ پیا، قید میں سڑتے رہے، مگر ان کے خیالات زندہ رہے، ان کے الفاظ دلوں میں گونجتے رہے اور صدیوں بعد بھی انسان ان کی طرف پلٹتا ہے، رہنمائی کے لیے، تسلی کے لیے اور سچائی کی ایک کرن دیکھنے کے لیے۔ سقراط بھی ایسا ہی ایک کردار تھا۔ ایک ایسا فلسفی جس نے کچھ نہ لکھا، لیکن دنیا کی سب سے بڑی علمی روایت کو جنم دیا۔ جو خود کچھ نہ بنا، مگر اپنے شاگردوں کے ذریعے تاریخ بدل گیا اور جس نے صرف سوال پوچھے، لیکن انسان کو سوچنے پر مجبور کر دیا۔

سقراط نے پانچویں صدی قبل مسیح کے یونان میں آنکھ کھولی، جب ایتھنز علم، فن، جمہوریت اور جنگ کی چکی میں پیسا جا رہا تھا۔ وہ کوئی خوبصورت، وجیہہ یا باوقار انسان نہ تھا۔ الٹا، اس کی بدصورتی ضرب المثل تھی۔ موٹا سا ناک، بھدے نقوش، عجیب چال۔ لیکن اُس کی زبان، اُس کا اندازِ سوال اور اُس کی نگاہوں کی گہرائی ایسی تھی کہ بڑے بڑے مفکر، فنکار، جرنیل اور نوجوان اُس کے گرد کھنچے چلے آتے تھے۔ اس نے ایتھنز کے بازاروں، گلیوں، حماموں اور چوکوں کو اپنا درسگاہ بنا لیا اور وہاں وہ بس سوال پوچھتا۔ مسلسل، پیہم، گہرے، تلخ، کھرے سوال۔

اس کا طریقہ تھا، "میں کچھ نہیں جانتا،........

© Daily Urdu