menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Afti Ki Saalgirah

28 0
21.06.2026

آج 13 اور 14 اگست 2000 کی درمیانی شب تھی، انیس سال پہلے امروز عزیزم حافظ سید افتخار الحق بخاری اس دنیا فانی میں تشریف لائے تھے، ہم پانچ افراد کو ایک کی بجائے دو کمرے درکار تھے، ہوٹلوں میں کمرہ میسر نہ پا کر ہم تقریباً مایوس ہو چکے تھے، ایک ہوٹل کی استقبالیہ سے ناکام ہو کر باہر کی طرف مڑے ہی تھے کہ لابی میں ایک خوش پوشاک رشین خاتون نے ہمیں روکا اور پیشکش کی "جھیل کنارے کمرہ مل سکتا ہے"۔

کرایہ عام ریٹ سے ڈبل، چالیس ڈالر ایک رات، بھاؤ تاؤ کیا لیکن وہ کسی صورت راضی نہ ہوئی، سفر کی تھکان باعث یہی قبول کرنا پڑا، علی سہیل اور خرم کمرہ دیکھنے گئے، چند منٹ بعد دو کمروں کی چابیاں لیکر آئے، اب رات گذارنے کی طرف سے بے فکری تھی۔

طے پایا کہ کسی کلب چلتے اور افتی کی سالگرہ یادگار بناتے ہیں، جس کلب میں گھستے وہ بند ملتا، ایک گارڈ نے بتایا "یہاں کاروبار رات بارہ بجے بند کرنے پر سختی سے عمل ہوتا ہے"۔ افتی کا منہ بن گیا تھا، سب کو زوروں کی بھوک لگی ہوئی تھی، سالگرہ کا جشن منانے کا پروگرام رائیگاں ہوتے نظر آ رہا تھا، جس پروگرام کی خاطر لمبا سفر طے کیا تھا وہی ناممکن نظر آ رہا تھا، ماحول پر طاری سکون وحشت میں بدل چکا تھا، گاڑی میں اب غلام علی خان کی غزل گونج رہی تھی

تمہیں بھی یاد ہے کچھ؟ یہ کلام کس کا تھا"۔

مایوس ہو کر پارکنگ دیکھ کر وہاں گاڑی روکی، سب کے منہ سوجے ہوئے، کوئی کسی سے بات نہ کر رہا، اگر بات کرتا تو فقط ہوں ہاں میں جواب ملتا، افسردگی کو خرم نے توڑا، "تم لوگ یہاں انتظار کرو، اوپر ایک ریسٹورنٹ کی بتیاں جلتی نظر آ رہی ہیں، میں کچھ کرتا ہوں"۔

پتھریلے راستے پر بنی سیڑھیاں چڑھتا خرم اوپر گیا اور دس منٹ بعد واپس آیا، "انتظام ہوگیا ہے، میرے ساتھ آؤ"۔ یہ مژدہ صحرا میں پیاسے کو پانی کا کنواں ملنے کے مترادف تھا، خرم کی پکار پر لبیک کہتے پیچھے ہولئے، سیڑھیاں چڑھ کر اوپر گئے، یہ ایک اچھا مقامی ریسٹورنٹ تھا، جس کے ساتھ ملحق کلب بند تھا، ایک بغلی دروازہ........

© Daily Urdu