Shajra Tayyaba
میناب کی فروری وہ مہینہ ہے جب سمندر تھک کر گھٹنے ٹیکتا ہے۔
عمان کی خلیج سے اٹھنے والی ہوا میں فروری تک وہ آگ نہیں رہتی جو جون میں ہڈیوں کا گُودا پگھلا دیتی ہے۔ اس مہینے میناب کا آسمان ایسا صاف ہوتا ہے جیسے کسی نے نیلے شیشے کو اندر سے دھو کر سُکھایا ہو۔ چوبیس پچیس درجے کی وہ نرمائش جو نہ سردی ہے نہ گرمی، بس زندگی کا وہ مقام جہاں سانس لینا آسان ہو جاتا ہے۔ کھجور کے پیڑ، جو میناب کی اصل رگوں میں دوڑتے ہیں، اس موسم میں ساکت کھڑے رہتے ہیں جیسے پہرے دار جنہیں ابھی حکم نہیں ملا، گرمیوں کی فصل کے منتظر، مگر اُن کے تنے سے نہ سبزی اتری ہے نہ سایہ۔ لیموں کے باغ فروری میں پکتے ہیں اور شہر کی گلیوں میں ایک خوشبو بسی رہتی ہے جو سنگترے کی نہیں بلکہ لیموں کی ہے۔ قدرے تیز، قدرے تازہ، وہ خوشبو جو پھیپھڑوں میں اُترے تو آدمی کو لگے کہ خدا نے دنیا بنا کر پچھتایا نہیں ہوگا۔
میناب ندی جنوب کی طرف بہتی ہے اور اپنے کنارے سے آدھ کوس کے فاصلے پر یہ شہر آباد ہے۔ تاریخ کہتی ہے کہ اسے دو بہنوں نے بنایا تھا، بی بی مینو اور بی بی ناز نین۔ عورتوں کا شہر۔ اسی لیے شاید یہاں کی عورتیں اتنی مضبوط ہیں، وہ ایک وراثت سنبھالے پھرتی ہیں جو انہیں پتہ بھی نہیں کہ کتنی پرانی ہے۔ وہ رنگین چادریں پہنتی ہیں جو ہند کی ساڑیوں سے ملتی جلتی ہیں، ریشمی کناریوں والی اور پاؤں تک کے پاجامے جن کی پنڈلیوں پر ہاتھ سے کاڑھی ہوئی کاری گری ہوتی ہے، سرخ، سبز، نارنجی، ایسے رنگ جن کا سمندر کنارے کی اس گرم زمین سے ایک پرانا رشتہ ہے اور ان کے چہروں پر وہ بُرقع جو افغانی برقع نہیں، ایک چھوٹا سا نوک دار سونے رنگ کا نقاب ہے، پرتگالیوں کی میراث، جو سولہویں صدی میں اس ساحل پر آئے تھے اور جانے کے بعد اپنی عورتوں کا یہ چھوٹا سا طریقہ یہاں کی مٹی میں چھوڑ گئے۔ سرخ نقاب کا مطلب ہے شادی شدہ، نارنجی کا مطلب منگنی۔
مریم کا نقاب سرخ تھا۔
وہ صبح سویرے اٹھتی تھی، اس سے بھی پہلے کہ میناب ندی پر سورج کی پہلی کرن پڑے۔ اس کا گھر شہر کی اُس گلی میں تھا جہاں پکی اینٹوں کے مکانات کے درمیان ایک نیم کا پیڑ کھڑا تھا جو گرمیوں میں تھوڑی سی چھاؤں دیتا تھا اور سردیوں میں بے پتّا کھڑا رہتا تھا، ایک فقیر کی طرح جو موسموں سے ماورا ہو چکا ہو۔ مریم کھجور کی پتیاں بُنتی تھی، چٹائیاں اور ٹوکریاں، جمعرات کے بازار کے لیے، اُس پنجشنبہ بازار کے لیے جو پانچ سو سال پرانا ہے اور جہاں ہورمزگان کے گاؤں گاؤں سے عورتیں آتی ہیں اور اپنا کام بیچتی ہیں، بغیر مردوں کے، اپنے ہاتھوں پر بھروسہ کرتے ہوئے۔ مریم کے ہاتھ کام کے دوران آزاد ہو جاتے تھے، انگلیاں خود جانتی تھیں کہاں جانا ہے، بُنائی کا یہ نقشہ اس کی ماں کے ہاتھوں میں تھا اور اس سے پہلے اس کی ماں کی ماں کے۔ کچھ چیزیں سکھائی نہیں جاتیں، اُترتی ہیں۔
اُس صبح، اٹھائیس فروری کو، مریم نے فجر کی نماز کے بعد چائے بنائی۔ چائے میں ہل دالی تھی جو میناب کی عورتیں ڈالتی ہیں۔ اُس نے ایک پلیٹ میں گھر کی رکھی ہوئی خرمائیں نکالیں، موٹی اور شیریں، گرمیوں کی فصل کو سنبھال کر رکھی ہوئی تھیں، یہ فروری کے دن وہی پرانی خرمائیں کھاتے ہیں۔ باہر سے لیموں کے پیڑ پر کچھ پکے پھل نظر آئے،........
