menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Pakistan Abrahimi Moahide Par Dastakhat Kab Karega?

24 0
yesterday

پاکستان ابراہیمی معاہدے پر کب دستخط کرے گا؟

آج معروف برطانوی اخبار "انڈیپنڈنٹ" کی یہ کہانی اور ہیڈ لائن پڑھ کر میرے ہونٹوں پر مسکراہٹ آ گئی۔ خبر کی سرخی یہ تھی کہ اگر پاکستان نے وہ کر دیا جو صدر ٹرمپ کہہ رہے ہیں، تو پاکستان کو اپنے تمام پاسپورٹ دوبارہ چھاپنے پڑیں گے۔ وجہ سادہ ہے۔ پاکستانی پاسپورٹ کے ایک صفحے پر، انگریزی اور اردو دونوں میں، ایک جملہ درج ہے۔ "یہ پاسپورٹ اسرائیل کے سوا دنیا کے تمام ممالک کے لیے کارآمد ہے"۔ یہ جملہ کوئی نیا نہیں۔ یہ جملہ ریاستِ پاکستان کی پیدائش کے ساتھ کا ہے اور نومبر دو ہزار پچیس میں، جب نئے بائیومیٹرک پاسپورٹ کے ڈیزائن پر سینیٹ کی قائمہ کمیٹی میں سوال اٹھا، تو ڈائریکٹر جنرل پاسپورٹ نے واضح کیا کہ یہ جملہ بدستور موجود ہے، صرف سکیورٹی فیچر بدلے گئے ہیں۔

ایک سفارتی پیغام، جو ایک چھوٹے سے کاغذی پرزے پر ستتر سال سے چھپا چلا آ رہا ہے اور آج، دو ہزار چھبیس میں، وہی پرزہ ایک شہ سرخی بن گیا ہے۔ مگر میری دلچسپی پاسپورٹ میں نہیں۔ میری دلچسپی اُس کھیل میں ہے جو اِس پاسپورٹ کے اوپر، بہت اونچی میزوں پر، کھیلا جا رہا ہے اور وہ کھیل سمجھنے کے لیے ہمیں ایک قدم پیچھے ہٹنا ہوگا۔

پہلے حقائق۔ گزشتہ ہفتے کے روز امریکی صدر نے آٹھ مسلمان ملکوں کے سربراہوں سے ٹیلیفون پر بات کی۔ پیر کو اپنی پوسٹ میں اعلان کیا کہ اب اِن ممالک کے لیے ابراہام معاہدے پر دستخط "لازمی" ہیں۔ سب سے پہلے سعودی عرب اور قطر، باقی پیچھے پیچھے۔ ساتھ سینیٹر لنڈسی گراہم کی دھمکی، کہ انکار کے "سنگین نتائج" نکلیں گے۔ یہ منظر، اوپر سے، طاقت کا منظر لگتا ہے۔ ایک سپر پاور اپنے اتحادیوں کو حکم دے رہی ہے۔

مگر سفارت کاری میں جو چیز اوپر سے نظر آتی ہے، وہ شاذ و نادر ہی اصل چیز ہوتی ہے۔ اصل چیز ہمیشہ نیچے، خاموشی میں، دبی ہوتی ہے۔

اب آئیے اُس بنیادی شرط کی طرف، جس پر سارا کھیل ٹکا ہے۔ سعودی عرب نے، اکتوبر سات کے بعد سے، ایک ہی بات دہرائی ہے۔ اسرائیل کے ساتھ تعلقات اُس وقت تک نہیں، جب تک "فلسطینی ریاست کا قابلِ اعتبار راستہ" نہ بنے۔ نومبر دو ہزار پچیس میں محمد بن سلمان نے وائٹ ہاؤس میں، خود ٹرمپ کے سامنے، یہی بات کہی۔ یہ سعودی موقف کا مرکزی ستون ہے اور اِس کے بغیر ریاض کوئی کاغذ نہیں چھوئے گا۔

اب دوسری طرف دیکھیے۔ اُسی نومبر دو ہزار پچیس میں، اُسی ہفتے، اسرائیلی وزیراعظم........

© Daily Urdu