menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Do Phal Farosh, Aik Aalmi Sabaq

10 1
12.02.2026

یہ کہانی دو پھل فروشوں کی ہے جنہوں نے معمولی زندگی کے باوجود تاریخ کے دھارے کو بدل دیا۔ بظاہر یہ الگ الگ واقعات ہیں، لیکن ان میں ایک چیز مشترک ہے جو اکثر مغربی میڈیا کی بیانیہ سازی کے تناظر میں نظر انداز کی جاتی ہے۔ وہ مشترکہ بات یہ ہے کہ دونوں مسلمان تھے۔

مغربی میڈیا نے ہمیشہ عالمی امن کے لیے خطرہ قرار دینے والوں کی فہرست میں ایسے چہرے شامل کیے جو اکثر اسلامی فوبیا یا دیگر تعصبات کی بنیاد پر نشانہ بنتے ہیں۔ لیکن ان دونوں پھل فروشوں کے واقعات نے مغرب کے منافقانہ نظریات کو یکلخت الٹ کردیا۔

تو آئیں آگے کے منظر کو دیکھیں۔

محمد ال بو عزیزی 1984 میں تیونس کے ایک عام قصبے سدی بوزید کے ایک معمولی سے گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم کے بعد کالج میں داخلہ لیا کمپیوٹر سائنس میں ماسٹرز کر لیا۔ بے روزگاری کی وجہ سے اور خاندان کے آٹھ افراد بشمول والدین کا بوجھ اٹھانے کے لئے عزیزی نے سدی بوزید کے بازار میں پھل اور سبزی کا ٹھیلہ لگا لیا۔ ایک دن سرکاری کارندے پہنچ گئے اور عزیزی سے ٹھیلے کا بلدیاتی پرمٹ طلب کیا۔ پرمٹ نہیں تھا۔ تو انہوں نے بدتمیزی شروع کردی اور ان سرکاری کارندوں کے ساتھ ایک خاتون نے ان کے چہرے پر تھپڑ مار دیا اور اپنے ساتھ ان کا ٹھیلہ بھی لے گئے، کافی چکر لگائے لیکن انہوں نے ٹھیلہ واپس کرنے سے انکار کردیا۔

اس نے فیس بک پر اپنی ماں کے لیے الوداعی پیغام چھوڑا اور سترہ دسمبر 2010 کو بلدیہ کے دفتر کے سامنے تیل چھڑک کر آگ لگا لی۔

بو عزیزی 18 دن تک اسپتال میں رہا، 4 جنوری 2011 کو اس کی موت ہوگئی، مگر تب شعلے عزیزی کے جسم تک........

© Daily Urdu