Kya Trump Latini America Ko Wapis Apni Jaib Mein Daal Rahe Hain?
کیا ٹرمپ لاطینی امریکا کو واپس اپنی جیب میں ڈال رہے ہیں؟
پچھلی قسط میں بات یہاں آ کر رکی تھی کہ لاطینی امریکا کی دائیں بازو کی قوتیں اب صرف اپنے اپنے ملک میں الیکشن نہیں جیت رہیں، ان کے درمیان ایک سرحد پار سیاسی نیٹ ورک بھی بن رہا ہے۔ اس نیٹ ورک کا ایک اہم مرکز خود لاطینی امریکا میں نہیں، واشنگٹن میں بنتا جا رہا ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس تبدیلی کے خالق ہیں یا صرف اس پر سواری کر رہے ہیں؟ کیا میلی، بوکیلے اور باقی رہنما ٹرمپ کے شاگرد ہیں؟ کیا امریکا ایک بار پھر اس خطے کو قابو کر رہا ہے جسے وہ ایک صدی سے زیادہ عرصے سے اپنے زیراثر علاقہ یا بیک یارڈ سمجھتا آیا ہے؟
ایک بات تو خیر ہمیں مان لینی چاہیے۔ لاطینی امریکا کی نئی رائٹ ونگ ٹرمپ نے پیدا نہیں کی۔ ارجنٹائن کی دو سو گیارہ فیصد مہنگائی واشنگٹن سے نہیں آئی تھی۔ ایکواڈور کے منشیات کے کارٹل ٹرمپ کی تخلیق نہیں۔ چلی میں امیگریشن پر بے چینی اور کولمبیا میں مسلح گروہوں کا ناسور بھی مقامی پیداوار ہے۔ یہ اپنے اپنے ملک کے بحران تھے اور انہی نے ووٹر کو دائیں طرف دھکیلا۔
ٹرمپ کا کمال یہ ہے کہ انہوں نے ان الگ الگ مقامی بغاوتوں کو ایک بڑی بین الاقوامی کہانی میں سمو دینے کا موقع پہچان لیا۔ چوبیس اگست کے نیویارک ٹائمز نے صفحہ اول پر جو رپورٹ شائع کی، اس میں ایک واقعہ ایسا ہے جو پڑھ کر میں کچھ دیر سوچتا رہ گیا۔ کولمبیا کے نئے صدر ابیلاردو دے لا ایسپریئیا کوئی بڑا بین الاقوامی نام نہیں تھے۔ فلوریڈا میں ٹرمپ کے ڈورل ریزارٹ میں ہونے والے ایک علاقائی اجتماع میں وہ بھی پہنچے۔ ٹی بریک میں ان کی ملاقات اوہائیو کے کولمبین نژاد امریکی سینیٹر برنی مورینو سے ہوگئی۔ یہ اتفاقیہ ملاقات ان کی قسمت بدل گئی۔ مورینو نے بات امریکی حکام تک پہنچائی، معاملہ اوپر گیا اور آخر میں ٹرمپ کی توثیق مل گئی۔ چند ماہ بعد وہی صاحب کولمبیا کے صدر تھے۔
غور کریں تو ایک پورا پیٹرن، راستہ اور روڈ میپ بن چکا ہے۔ فلوریڈا کے کسی اجتماع میں پہنچ جائیے، کسی امریکی سینیٹر یا مشیر سے علیک سلیک بڑھائیے، وہ آپ کا نام اوپر پہنچا دے اور پھر ٹرمپ کی ایک توثیق آپ کے ملک میں آپ کا انتخابی قد اونچا کر دے۔
امریکا لاطینی امریکا کی سیاست میں پہلے بھی مداخلت کرتا رہا ہے اور اکثر انتہائی بھونڈے اور تباہ کن انداز میں۔ چلی میں........
