Dehshat Gardon Ki Muzammat Ghair Mashroot Karen
دہشت گردوں کی مذمت غیر مشروط کریں
ہم اخبارنویس ہیں، کام ہی خبروں کا ہے، آج کل اخبار میں باقاعدہ کام نہیں کر رہا، ورک فرام ہوم چل رہا اور زیادہ تر کالم نگاری ہی ہے، مگر خبروں کی دنیا سے دور نہیں۔ روزانہ کئی اخبار، جرائد، ویب سائٹس پڑھتے ہیں۔ ٹی وی اور سوشل میڈیا سے خبریں بھی برستی رہتی ہیں۔ اچھی، بری، دل شاد کرنے والی، تکلیف دہ ہر قسم کی خبریں۔ بعض خبریں مگر دل پر ایسے گرتی ہیں جیسے پتھر پانی میں گرے اور دیر تک لہریں اٹھتی رہیں۔ اتمان زئی، چارسدہ میں شیخ الحدیث مولانا محمد ادریس کی شہادت کی خبرایسی ہی ایک خبر تھی۔ اس نے ہلا کر رکھ دیا۔
مولانا ادریس صاحب کوئی معمولی آدمی نہیں تھے۔ دو بڑے مدارس میں شیخ الحدیث تھے، ڈھائی ہزار کے قریب طلبہ ان سے حدیث کا درس لیتے تھے۔ استاد الاساتذہ کا لقب ایسے ہی نہیں ملتا۔ ان کے خاندان کے کئی لوگ دینی علوم سے وابستہ تھے۔ وہ چارسدہ کے نامور عالم مولانا حسن جان شہید کے داماد تھے، وہی مولانا حسن جان جنہوں نے جرات سے ٹی ٹی پی کے دہشت گردوں کے خلاف آواز اٹھائی اور اپنے ہی ایک بدبخت شاگرد کی غداری سے شہید ہوئے۔ گویا شہادت اس خاندان کا مقدر ٹھہری۔ مولانا ادریس جے یوآئی ف کے ضلعی امیر، مرکزی شوریٰ کے رکن، مولانا فضل الرحمن کے قریبی ساتھی اور سابق رکن صوبائی اسمبلی تھے، یعنی ایک مکمل اور قد آور شخصیت۔
سوال یہ ہے کہ آخر قصور کیا تھا مولانا ادریس صاحب کا؟ پتہ چلا کہ کچھ عرصہ قبل انہوں نے جمعہ کے خطبے میں فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کے حوالے سے چند اچھے مثبت جملے بول........
