Bharat Mein Pakistan Phobia Aur Aqliatein
بھارت میں پاکستان فوبیا اور اقلیتیں
اٹھارہ فروری دو ہزار سات کی رات پانی پت کے قریب سمجھوتہ ایکسپریس میں دو دھماکے ہوئے۔ اڑسٹھ لوگ جان سے گئے، جن میں اکثریت پاکستانی مسافروں کی تھی۔ صبح ہوتے ہی دلی کے چینلوں پر ماہرین کی قطار لگ گئی اور فیصلہ سنا دیا گیا کہ یہ کام سرحد پار سے ہوا ہے۔ برسوں بعد تفتیش کا رخ مڑا اور معاملہ سوامی اسیم آنند اور ان کے ساتھیوں تک جا پہنچا۔ مقدمہ چلتا رہا، دو ہزار انیس میں سب ملزم بری ہو گئے، مگر ریکارڈ پر ایک بات ہمیشہ کے لیے آ گئی۔ پہلے دن کا الزام اور آخری دن کی تفتیش دو مختلف سمتوں میں گئے تھے۔
یہ اکیلا واقعہ نہیں۔ دو ہزار چھ کے مالیگاؤں دھماکوں میں نو مسلمان نوجوان اٹھا لیے گئے اور دس سال بعد تفتیشی ادارے نے خود عدالت کو بتایا کہ ان کے خلاف کچھ نہیں۔ ہمارے ہاں محاورہ ہے، زندگی جہنم بن جانا۔ ان نوجوانوں کی جوانی، ملازمتیں، رشتے، سب اسی جہنم کی نذر ہوئے اور کسی نے پلٹ کر معافی تک نہ مانگی۔
یہ پرانی کہانیاں آج اس لیے یاد آ رہی ہیں کہ اگست دو ہزار چھبیس میں بھارتی ایجنسیوں نے چودہ ریاستوں میں ایک بڑا کریک ڈاؤن کیا۔ ان کے اپنے دعوے کے مطابق دو سو ترپن افراد حراست میں لیے گئے، دو سو سے زائد گرفتاریاں ہوئیں اور اسی سے زیادہ مقدمے درج کیے گئے۔ سب سے زیادہ گرفتاریاں اتر پردیش، ہریانہ، دلی اور پنجاب سے ہوئیں، جبکہ راجستھان، مہاراشٹر، گجرات، کرناٹک اور مقبوضہ کشمیر تک چھاپے پڑے۔ سارے آپریشن کا مرکزی کردار ایک مفرور شخص شہزاد بھٹی کو بتایا........
